Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :4)
282 - 882
 نہیں بنایا گیا بلکہ فرمانبرداری اور اس تک پہنچانے والے اَعمال کرنے کے لئے پیدا کیا گیا ہے اور درخت اور اس کی جڑوں کی پیدائش، اس تک پانی پہنچانا اور اس میں حصول غذا اور نَمو کی قوت پیدا فرمانا اس لئے ہے تاکہ یہ تناور درخت بن جائے اور لوگ  اس سے نفع حاصل کریں تو اگر اس کی نَشْو ونَما سے پہلے ہی بغیر کسی حاجت و نفع کے توڑ دیا جائے تو یہ اس کے مقصود وحکمت کے خلاف اور عدل سے روگَردانی ہے اور اگر کسی ضروری حاجت کے لئے توڑا جائے تو پھر ٹھیک ہے کیونکہ درخت اور جانوروں کو انسانی حاجات پوری کرنے کے لئے بنایا گیا ہے۔ جب یہ دونوں ہلاک ہونے کے لئے ہی پیدا کئے گئے ہیں تو اشرف و اعلیٰ مخلوق کی بَقا کے لئے ادنیٰ کو ہلاک کردینا ہی عدل کے زیادہ قریب ہے بَمُقابَلہ انہیں ضائع کرنے کے۔ اسی بات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے اللہ عَزَّ وَجَلَّ اشاد فرماتا ہے:
وَ سَخَّرَ لَکُمۡ مَّا فِی السَّمٰوٰتِ وَمَا فِی الْاَرْضِ جَمِیۡعًا مِّنْہُ ؕ (پ۲۵،الجاثیة:۱۳)
ترجمۂ کنزالایمان: اور تمہارے لئے کام میں لگائے جو کچھ آسمانوں میں ہیں اور جو کچھ زمین میں اپنے حکم سے۔
بعض اشیاء کا نفع بعض کے لئے خاص ہوتا ہے:
	البتہ  اگر دوسرے کی ملک میں لگے درخت سے ٹہنی توڑی جائے تو اگرچہ حاجت کی وجہ سے ہو پھر بھی ظلم ہے کیونکہ ہر درخت تمام لوگوں کی حاجت پوری کرنے کے لئے نہیں بلکہ بعض درخت بعض مخصوص لوگوں کی حاجت کے لئے ہیں اور یہ تخصیص بغیر کسی وجہ کے نہیں کہ یہ تو خود ظلم ہے بلکہ کسی بھی درخت کا نفع اسی شخص کے لئے خاص کیا جاتا ہے جو بیج حاصل کرے، اسے بوئے، پانی دے اور اس کی دیکھ بھال کرے تو یہ شخص دوسروں کے مقابلے میں اس کے نفع کا زیادہ حقدار ہوتا ہے اور انہی وُجُوہات کی بنا پر اسے ترجیح دی جاتی ہے۔
	جو زمین کسی کی ملک میں نہ ہو اگر اس میں کسی کے بیج لگائے بغیر پودا خود ہی اُ گ جائے اور تناور درخت بن جائے تو اب تخصیص کی کوئی دوسری وجہ تلاش کرنی ضروری ہے اور وہ یہی ہے کہ جو پہلے اسے توڑ نے آجائے کیونکہ پہلے آجانا بھی خصوصیت کے اسباب میں سے ہے تو عدل یہی ہے کہ جو پہلے آیا وہ اس کا زیادہ حقدار ہے۔ فُقَہَا اس تخصیص کو بھی ملک سے تعبیر کرتے ہیں جو کہ خود خالِصَتًا مجازی ہے کیونکہ حقیقی مالک تو بادشاہوں کا بادشاہ ربّعَزَّ  وَجَلَّہے اسی کی ملک ہے جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے۔ انسان کیسے کسی بھی چیز کا