نافرمانی تصور کرتے ہیں کہ ایک مرتبہ ایک صوفی بزرگ نے گیہوں کے بھرے ڈول جمع کر رکھے تھے اور انہیں صدقہ کرتے جارہے تھے، کسی نے اس کا سبب معلوم کیا تو انہوں نے فرمایا: ”ایک مرتبہ میں نے بھولے سے جوتے پہننے کی ابتدا اُلٹے پاؤں سے کرلی تھی، لہٰذا صدقے کے ذریعے اس کا کفارہ ادا کرنا چاہتا ہوں۔“
فقیہ اس طرح کے معاملات کی شَدّومَد کے ساتھ بُرائی بیان نہیں کرسکتا کیونکہ اس کا مقصود اس عوام کی اصلاح ہے جو شرعی معاملات میں چوپائیوں کی طرح ہیں اور ایسے بڑے بڑے گناہوں کی اندھیریوں میں ڈوبے ہوئے ہیں جن کے مقابلے میں یہ کچھ بھی نہیں مثلاً اگر کوئی شخص الٹے ہاتھ میں پیالہ پکڑ کر شراب پی رہا ہو تو اسے یہ نہیں کہا جائے گا کہ تم دو برائیوں کے مرتکب ہوئے ایک شراب نوشی دوسرے الٹے ہاتھ سےپیالہ پکڑنا۔ یونہی جمعہ کے دن اذانِ ثانی کے وقت شراب کی خرید وفروخت میں مصروف شخص کو اس کی دوبرائیاں یعنی ایک شراب کی خرید وفروخت اور دوسرا جمعہ کی اذان کے وقت خرید وفروخت نہیں گنوائی جائیں گی اور ایسے ہی جو بیچ مسجد میں قبلے کی طرف پیٹھ کر کے استنجا کررہا ہو تو اسے استنجا کے آداب نہیں بتائے جائیں گےاگرچہ نافرمانیاں ساری کی ساری تاریکیاں ہیں لیکن بعض اس قدر سخت اور بڑی ہوتی ہیں کہ دوسری ان کے سامنے نظر بھی نہیں آتیں جیسے غلام اگر مالک کی چُھری بغیر اجازت استعمال کرے تو وہ اس پر اسے ڈانٹے گا لیکن اگر وہ اس چھری سے مالک کے بیٹے کو قتل کردے تو اب مالک کی توجہ بغیر اجازت چھری استعمال کرنے پر نہ ہوگی(کیونکہ بیٹے کا قتل اس سے کہیں بڑا معاملہ ہے)۔ایسے ہی وہ تمام معاملات جن کے آداب انبیا وبزرگانِ دین عَلَیْہِمُ السَّلَامنے پیْشِ نظر رکھے لیکن فقہ کی رو سے انہیں چھوڑنے پر عوام پر کوئی سختی نہیں تو اس کی یہی وجہ ہے(کہ ان کے بڑے گناہوں کے سامنے یہ کچھ بھی نہیں) ورنہ اس طرح کی تمام نافرمانیاں بھی عدل سے روگردانی، نعمت کی ناشکری اور قُربِ الٰہی تک پہنچانے والے درجہ میں نقصان کا باعث ہیں بلکہ بعض نافرمانیاں تو قُربَتِ الٰہی کے مقام سے گراکر ایسی دوری تک پہنچادیتی ہیں جو شیاطین کا ٹھکانہ ہے ۔
اشیاء انسانی حاجات کے لئے پیدا کی گئی ہیں:
اسی طرح جو شخص ضرورت اور صحیح حاجت کے بغیر درخت سے کوئی ٹہنی توڑے تو اس نے درخت اور ہاتھ جو اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی نعمت ہیں ان دونوں کی نافرمانی کی۔ ہاتھ کی اس طرح کہ اسے فضول کاموں کے لئے