ارشاد فرماتا ہے، پھر یہ کہ جس نے تمہیں ہاتھوں کی نعمت عطا کی ہے اسی نے تمہارے لئے اعمال بھی مقرر کئے ہیں جن میں سے بعض اعلیٰ ہیں جیسے قرآن پاک اٹھانا اور بعض ادنیٰ جیسے نجاست زائل کرنا، اب اگر تم الٹے ہاتھ سے قرآن پاک اٹھاؤ اور سیدھے ہاتھ سے نجاست زائل کرو تو تم نے فضیلت والے سے ادنیٰ کام لےکر اس کے حق میں کمی کی جوکہ ظلم اور عدل سے رُوگردانی ہے۔
سمتیں مقرر کرنے کی حکمت:
یونہی اگر تم قبلہ کی طرف تھوکو یا قضائے حاجت کے وقت اس طرف منہ کرو تو جہات(یعنی سمتیں) اور وُسْعَتِ عالَم جو اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی نعمتوں میں سے ہیں تم نے ان کی ناشکری کی کیونکہ مختلف جِہات اس لئے بنائی گئیں کہ تمہیں حرکت کرنے میں آسانی ہو اور مختلف جِہات میں بھی بعض بعض سے اعلیٰ ہیں کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے ایک سمت میں گھر(یعنی کعبۃ اللہ شریف) بناکر اسے اپنی طرف منسوب کرکے اس جِہَت کو عزت و شرافت بخش دی تاکہ تمہارا دل اسی طرف مائل رہے اور اس کی عَظْمَت تم اپنے دل میں بسالو حتّٰی کہ جب تم اپنے ربّ کی عبادت کرو تو تمہارا جسم بھی اسی جہت کی طرف سکون و با وقار طریقے سے متوجہ ہو۔اگر تمہارے اَفعال کی تقسیم کی جائے تو ان میں بھی بعض اعلیٰ ہیں جیسے عبادت و فرمانبرداری کرنا جبکہ بعض بُرے سمجھے جاتے ہیں جیسے استنجا کرنا اور تھوکنالہٰذا جب تم نے قبلے کی طرف تھوکا تو اس جہت کے ساتھ زیادتی کی اور اس کی ناشکری کی کیونکہ جہتِ قبلہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی نعمت ہےاور اس جہت میں اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے تمہاری عبادت کے لئے قبلہ بناکر اسے عزت بخشی ہے۔
موزہ پہلے سیدھے پاؤں میں پہننے کی حکمت:
موزے پہننے میں الٹے پاؤں سے ابتداکرنا بھی ظلم ہے کیونکہ موزہ پاؤں کی حفاظت کے لئے ہوتا ہے اور اسے پہننے میں پاؤں کی بہتری ہے اور بہتر اور بھلائی والے کام کی ابتدا شرافت و عظمت والی جانب سے کرنی چاہئے یہی عدل ہے اور اسی میں حکمت ہے جبکہ اس کا اُلَٹ کرنا ظُلْم ہے اور اس میں پاؤں اور موزے دونوں نعمتوں کی ناشکری ہے۔ فقہائے کرام کے نزدیک اگرچہ یہ فعل مکروہ ہے لیکن صوفیائے کرام اسے بہت بڑی