وَ تُوۡبُوۡۤا اِلَی اللہِ جَمِیۡعًا اَیُّہَ الْمُؤْمِنُوۡنَ لَعَلَّکُمْ تُفْلِحُوۡنَ ﴿۳۱﴾ (پ۱۸،النور:۳۱)
ترجمۂ کنز الایمان:اور اللہ کی طرف توبہ کرو اے مسلمانو سب کے سب اس امید پر کہ تم فلاح پاؤ۔
اس آیتِ طیبہ میں تمام مسلمانوں کو خطاب ہے نیز نورِبصیرت بھی اسی کی طرف راہ نمائی کرتا ہے کیونکہ توبہ کا معنی ہے”اُس راستہ سے واپس لوٹنا جو اللہ عَزَّ وَجَلَّ سے دور اور شیطا ن کے قریب کرتا ہے۔“اور یہ کام کسی عقل مند ہی سے متصور ہےاورعقل کی فطری تکمیل اسی وقت ہوگی جب شہوت،غضب اور وہ تمام مذموم صفات جو انسان کو بہکانے کے لئے شیطان کے جا ل ہیں کا مل ہوں کیونکہ 40سال کی عمر میں عقل کا مل ہو تی ہے جبکہ بنیادی طور پرقریْبِ بُلُوغ پوری ہوجاتی ہے اور اس کی نشانیاں سات سال کے بعد ظاہر ہوجاتی ہیں اور خواہشات شیطان کا لشکر ہیں اور عُقُول فَرِشتو ں کا لشکر ہیں پس جب یہ دونوں جمع ہو ں گے تو ان کے مابین لڑائی ضرور ہوگی کیو نکہ باہم ضدہونے کے سبَب دونوں اکٹھے نہیں ہوسکتے، ان دونوں کے درمیان ایسی جنگ ہے جیسی رات اور دن اور روشنی اور اندھیرے میں ہے کہ ایک وقت میں جمع نہیں ہوسکتے۔
جب ان میں سے ایک لشکرغالب آجاتا ہے تو دوسرے کو نکال باہر کرتا ہے اور اگر نفسانی خواہشات بچپن اور جوانی میں عقل کے کامل ہونے سے پہلے ہی کا مل ہوجائیں تو شیطانی لشکر سبقت لے جا تا ہے اور دل پر قبضہ جما لیتا ہے اور لامُحالہ دل میں خواہشات سے اُنسیت اور اُلفت پیدا ہوجاتی ہے اور خواہشات بندے پر غلبہ کرلیتی ہیں اوراس کے لئے ان سے نکلنا دشوار ہو جاتا ہے۔ پھر عقل چمکتی ہے جو اللہ عَزَّ وَجَلَّ کا گروہ اور لشکر ہے اور اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے دوستو ں کواس کے دشمنوں کے ہاتھوں سے آہستہ آہستہ بچاتی ہے۔پس اگر یہ عقل مضبوط اور کا مل نہ ہو تو دل کی زمین شیطان کے قبضے میں چلی جاتی ہے اور وہ ملعون اپنا وعدہ پور ا کرتا ہے۔جیساکہ اس نے کہا تھا: لَاَحْتَنِکَنَّ ذُرِّیِّتَہٗۤ اِلَّا قَلِیۡلًا ﴿۶۲﴾ (پ۱۵،بنی اسرآئیل:۶۲) ترجمۂ کنز الایمان:تو ضرور میں اس کی اولاد کو پیس ڈالوں (برباد کرڈالوں) گامگرتھوڑا۔
اگر عقل کامل اور طاقتور ہوجائے تو اس کا پہلا کام یہ ہوتا ہے کہ خواشات کو توڑ کر،بُری عادتیں ختم کرکے اور طبیعت کو عبادات پر مجبورکرکے شیطانی لشکر کا قَلع قُمع کر تی ہے اور توبہ کا مطلب بھی یہی ہے اور وہ اُس راستے سے اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے راستے کی طرف لوٹ آنا ہے جس پر شہوت راہ نما ہے اور شیطان گڑھا کھودنے والا ہے۔