Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :4)
279 - 882
وَ مَنۡ یَّتَعَدَّ حُدُوۡدَ اللہِ فَقَدْ ظَلَمَ نَفْسَہٗ ؕ (پ۲۸، الطلاق: ۱)
ترجمۂ کنزالایمان:اور جو اللہ کی حدوں سے آگے بڑھا بے شک اس نے اپنی جان پر ظلم کیا۔
	حد وعلت مقرر کرنا اس لئے بھی ضروری ہے کہ شریعتوں کے احکامات ان حدود اور علتوں ہی کی وجہ سے مختلف ہوتے ہیں جیساکہ حضرت سیِّدُنا عیسٰی رُوحُ اللہعَلٰی نَبِیِّنَاوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی شریعت میں شراب حرام  ہونے کی علت نشہ آنا تھا جبکہ ہماری شریعَتِ اسلامیہ میں اس کی علت نشہ آور ہونا ہے چاہے تھوڑی ہو یا زیادہ کیونکہ تھوڑی ہی زیادہ کی طرف رغبت دلاتی ہے تو جو بھی شے نشہ آور جنس سے ہے وہ حُرمت میں داخل  ہے جیساکہ شراب نشہ آور ہونے کے سبب حرام ہے۔
	روپے پیسے کی پوشیدہ حکمتوں کو سمجھنے کے لئے یہ ایک مثال تھی۔ ہمیں چاہئے کہ نعمت کے شکر اور ناشکری کو اسی سے جان لیں کیونکہ ہر شے کے وُجود کی ضرورکوئی حکمت ہوتی ہے جس میں تصرف کرنا مناسب نہیں اور یہ بات حکمت جاننے کے بعد ہی سمجھی جاسکتی ہے کہ جسے حکمت ملی اسے بہت بھلائی ملی۔ لیکن جس کا دل خواہشات اور شیطان کے کھیل کا میدان ہو وہاں حکمتوں کے موتی جمع نہیں ہوتے بلکہ نصیحت عقلمند ہی حاصل کرتے ہیں۔ اسی لئے حُضور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا: ” اگر شیاطین نے انسانوں کے دلوں کو گھیرا ہوا نہ ہوتا تو وہ آسمان کی بادشاہی کی طرف دیکھ لیتے۔“(1)
	جب تم نے یہ مثال اچھی طرح سمجھ لی تو اس سے اپنی حرکات وسَکَنات، بول چال اور ہرہر فعل کا جائزہ لو یا تو وہ شکر پر مشتمل ہوگا یا ناشکری پر اس کے علاوہ کوئی صورت نہیں۔
انسانی اعضاء کی چند حکمتیں:
	فقہ کی اصطلاح میں انسان کے بعض افعال کو مکروہ کہا جاتا ہے اور بعض کو ممنوع جبکہ صوفیائے کرام ایسے تمام افعال کو ممنوع جانتے ہیں مثلاً اگر تم سیدھے ہاتھ سے اِسْتِنْجا کرو تو یہ دونوں ہاتھ جو اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی نعمت ہیں ان کی ناشکری ہوگی کیونکہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے سیدھے ہاتھ کو اُلٹے سے زیادہ قوت عطا کی ہے تو شرافت و فضیلت کا یہ الٹے سے زیادہ حقدار ہے اور کمتر کو فضیلت دینا عدل کے خلاف ہے جبکہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ تو عدل کا حکم 
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
… المسند للامام احمد بن حنبل، مسند ابی ھريرة،۳/ ۲۶۹،حدیث : ۸۶۴۸،بتغیر