Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :4)
278 - 882
قرار دی جائے تو اس حُرمت میں کپڑے اور جانوروں کی بیع بدرجہ اولیٰ داخل ہوگی اور اگر حدیْثِ مُبارَک میں نمک کا ذکر نہ ہوتا توحضرتِ سیِّدُنا امام مالک رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کا مذہب سب سے قوی ہوتا کیونکہ انہوں نے اشیاء میں سود کی علت شے کا قوت بخش ہونا قرار دیا ہے۔(1)
احکامات کی علتیں مقرر کرنے کی حکمت:
	شریعت جو بھی حکم بیان کرے ہمیں چاہئے کہ اس کی کوئی حد کوئی علت مقرر کرلی جائے اور جہاں تک سود کی حرمت کی علت کا تعلق ہے تو ”شے کا قوت بخش ہونا“ مقرر کی جائے یا ”بطورِ غذا استعمال ہونا“ کی جائے دونوں ممکن ہیں جیساکہ حضرتِ سیِّدُناامام مالک اور حضرتِ سیِّدُناامام شافعی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِمَانے اسے عِلَّت شمار کیا لیکن شریعت نے سود کی حُرمت کی علت اشیاء کے بطور غذا استعمال ہونے کو مناسب سمجھا جو زندہ رہنے کے لئے سب سے بڑی ضرورت ہے۔کبھی شرعی علتیں  ایسے اطراف کو محیط ہوتی ہیں جن میں حکم پر ابھارنے والا اصل معنی قوی نہیں ہوتا لیکن اس کے باوجود وہ علت ہوتی ہے کیونکہ اگر احکام کی عِلَّتَیْں مقرر نہ کی جائیں تو لوگ اَحوال اور اشخاص کے اختلافات کی وجہ سے واضح شرعی احکامات پر بھی عمل کرنے میں پریشان ہوں گے کیونکہ حکم واضح ہونے کے باوجوداحوال واشخاص کے اختلاف کی وجہ سے تبدیل ہوجاتا ہے۔ معلوم ہواکہ حد وعلت مقرر کرنا ضروری ہے، اسی کے متعلق اللہ عَزَّ وَجَلَّ ارشاد فرماتا ہے:
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
……چھوہارے کے عوض اور نمک نمک کے عوض برابر برابر نقد بہ نقد   بیچو جب یہ قسمیں بدل جائیں تو جیسے چاہو بیچوبشرطیکہ  نقد بہ نقد ہو۔(مسلم،کتاب المساقاة والمزارعة،باب الصرف وبیع الذھب بالورق نقدا، ص۸۵۶،حدیث:۸۱-(۱۸۸۷))
…حضرت سیِّدُنا عبادہ بن صامت رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ سے مروی  حدیث میں حُرمت کی علت احناف کے نزدیک سونے چاندی میں جنس ووزن ہے چنانچہ احناف کے نزدیک سونے چاندی میں ہم جنس وہم وزن اشیاء کا تبادلہ کمی زیادتی کے ساتھ ناجائز ہے، بقیہ چار اشیاء میں جنس وکیل علت ہےلہٰذااحناف کے نزدیک  ناپ تول سے بکنے والی ایک ہی جنس  کی اشیاء کا تبادَلہ کمی زیادتی کے ساتھ ناجائز ہے۔ شوافع کے نزدیک سونے چاندی میں ثَمَنِیَّت علت ہے اور بَقِیَّہ اشیاء میں ماکول یعنی بطور غذا استعمال ہونا علت ہے۔ مالکیوں  کے نزدیک سونے چاندی میں ثمنیت ہی علت ہے لیکن بقیہ اشیاء میں قوت بخش ہونا علت ہے۔ حَنابِلہ کے نزدیک سونے چاندی میں جنس ووزن علت ہے اور بقیہ اشیاء میں ان کے دو قول ہیں قدیم قول کے مطابق ماکولی ہونے کے ساتھ ساتھ مکیلی یا موزونی ہونا بھی شرط تھا لیکن جدید قول کے مطابق صرف ماکولی ہونا شرط ہے۔(اتحاف السادة المتقین،۱۱/ ۱۳۵،۱۳۴،ملخصًا)