Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :4)
277 - 882
چاہئے کہ جن کے پاس حاجت سے زائد ہے ان کے ہاتھوں سے نکال کر حاجت مندوں تک پہنچایا جائے۔ کھانے کی اشیاء وہی بیچے گا جسے اس کی حاجت نہ ہو کیونکہ جس کے پاس کھانا موجود ہو اور اسے اس کی حاجت بھی ہو تو وہ اسے کھائے گا تجارتی سامان کیوں بنائے گا؟ اور اگر یہ کھانا اضافی ہو تو چاہئے کہ ایسے شخص کو بیچے جو اسے کھانے کے علاوہ وہ چیز دے جس کی اسے حاجت ہےلہٰذا جو شخص کھانے کے بدلے اسی قسم کا  کھانا خریدے(یہی ہے ذخیرہ اندوز) کیونکہ اسے اس کھانے کی بھی حاجت نہیں۔ اسی وجہ سے شریعت نے ذخیرہ اندوز پر لَعْنَت کی ہے اور اس کے متعلق وعیدیں بھی ہیں جو ہم نے”کسب ومعاش کے آداب “میں ذکر کی ہیں۔
	البتہ  کھجور کے بدلے گندم بیچنا جائز ہے کیونکہ وہ مجبور ہے کہ ان میں سے کسی کو دوسرے کی جگہ استعمال نہیں کیا جاسکتا اور ایک صاع گندم کے بدلے ایک ہی صاع گندم بیچنا بھی جائز ہے اگرچہ یہ شخص مجبور نہیں لیکن یہ فُضُول کام ہے، لہٰذا اس سے منع کرنے کی حاجت نہیں کہ نفس اس بیع کی طرف اسی وقت مائل ہوگا جبکہ ان کی صفات میں تفاوت ہو یعنی اسے خراب کے بدلے عمدہ کھجوریں دی جائیں جبکہ  اس پر عمدہ کھجوروں والا راضی نہیں ہوگا لیکن جب دوصاع خراب کھجوروں کے بدلے ایک صاع عمدہ کھجویں دی جائیں تو نفس اس طرف مائل ہوتا ہے (لیکن یہ شرعاً جائز نہیں) کہ کھانے کی اشیاء ضروریات میں سے ہیں اور ان میں صفات کا تغیر یعنی عمدہ یا خراب ہونا اصل شے میں فرق پیدا نہیں کرتا اور بطورِ غذا استعمال ہونے والی اشیاء میں اس صفاتی فرق یعنی عمدہ یا تروتازہ ہونے کی شریعت میں کوئی حیثیت نہیں۔
	سود حرام ہونے کی یہ حکمت ہم پرفَنِّ فقہ سے فراغت کے بعد واضح ہوئی لہٰذا ہم نے اسے فقہی مسائل کے ساتھ ذکر  کردیا  اور اختلافی مسائل جتنے بھی ہم نے ذکر کئے ہیں ان میں سب سے اہم یہ مسئلہ ہے۔اس حکمت کے ذریعے ناپ تول کو سود کی عِلَّتِ حُرمت  مُقَرَّر کرنے کے مقابلے میں حضرتِ سیِّدُناامام شافعی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْکَافِیکے مذہب کے مطابق غذا کوحُرمت کی عِلَّت قراردینے  کی وجہ واضح ہوگئی کیونکہ اگر(سود کی علت جنس کے ساتھ ناپ تول کو بناکر) چونے کی بیع بھی (حدیث مبارکہ (1)میں بیان کی گئی صورت کے مطابق)حرام 
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
…”صحیح مسلم“میں حضرت سیِّدُنا عبادہ بن صامترَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہسے مروی ہے کہ رسولُ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا : سونا سونے کے عِوَض اور چاندی کے عوض چاندی، گیہوں کے عوض گیہوں، جو کے عوض جو، چھوہارے ۔۔۔۔۔۔