Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :4)
276 - 882
یکساں کرنسیوں کے تبادَلے کی صورت:
	جہاں تک ایک ہی کرنسی کو اس کی مثل کے بدلے بیچنے کا معاملہ ہے تو یہ اس وجہ سے جائز ہے کہ دونوں کرنسیاں یکساں ہیں، کوئی عاقل شخص نہ اس کی طرف راغب ہوتا ہے اور نہ ہی تاجر اس میں مشغول ہوتا ہے کیونکہ یہ بیع فضول ہے اور یہ بیع کرنا درہم زمین پر گِرا کر پھر اٹھالینے کی طرح ہے۔ ہم نہیں سمجھتے کہ عقلمند حضرات اپنا وقت دَرَاہم کو زمین پر گِرا کر انہیں اٹھانے میں صرف کریں گے اس لئے ہم نے ایسی چیز سے منع بھی نہیں کیا جس کی طرف نفس مائل نہ ہو مگر جب ان میں سے ایک دوسرے سے کَھرا ہو تو نفس ضرور مائل ہوگا لیکن اس صورت میں تبادلے کا رَواج ہی نہیں کیونکہ جس کے پاس کَھرا سِکّہ ہو وہ اسی کے برابر کھوٹا سِکّہ لینے پر کبھی راضی نہیں ہوگا لہٰذا بیع ہی نہ ہوگی اور اگر وہ کھوٹے سکے زیادہ طلب کرے جیساکہ اس کی خواہش کی جاتی ہے تو یہ شرعاً ناجائز ہے اور حکم یہ ہے کہ جب کرنسی ایک ہی ہو تو اس میں کھرے یا کھوٹے کا کوئی فرق نہیں کیونکہ یہ صفات ان اشیاء میں مَدِّنظر رکھنا مناسب ہیں جن کی ذات اور ان کا حُصول مقصود ہو اور جن کی ذات مقصود نہ ہو ان میں صفات کی باریک تبدیلیوں کو پیْشِ نظر رکھنا مناسب نہیں۔ لہٰذا ظالم ہے وہ شخص جو کرنسی کو کھرے کھوٹے میں تقسیم کردے حتّٰی کہ ان کا حُصول مقصودبن جائے جبکہ حقیقتاً وہ مقصود نہیں۔
  	درہم کو اس کی مثل درہم کےبدلے اُدھار بیچنا ناجائز ہے  اور اس پر وہی شخص اِقدام کرے گا جسے احسان کرنا منظور نہ ہوگا جبکہ قرض دینے میں مقروض پر احسان اور اسے چُھوٹ دیناہےجس کی وجہ سے آدمی تعریف کا مستحق بھی ہوتا ہے اور ثواب کا بھی۔ اس کے برعکس بیع کرنے میں نہ تعریف کا مستحق ہے نہ ثواب کا بلکہ یہ ظُلْم ہے کیونکہ یہ خصوصی احسان کو ضائع کرکے اس کے بدلے مُعاوَضہ طَلَب کرنا ہے۔
اشیائے خورد ونوش حاجت سے زائد ہوں تو!
	اسی طرح کھانے کی اشیاء بطورِ غذا اور دوا استعمال کرنے کے لئے بنائی گئی ہیں لہٰذا مناسب نہیں ہے کہ ان میں تصرف کر کے کسی اور مقصد کے لئے استعمال کیا جائے کیونکہ اس صورت میں پریشانیوں کا دروازہ کھل جائے گا اور کھانا چند لوگوں کے ہاتھوں میں قید ہوکر رہ جائے گا اور اس کا مقصد فوت ہوجائے گا کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے کھانے کی اشیاء صرف غذا کے طور پر استعمال کرنے کے لئے پیدا کی ہیں اور اس کی حاجت بھی شدید  ہے تو