Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :4)
275 - 882
سود حرام ہونے کی شرعی حکمت:
	جو شخص روپے پیسے  کے ذریعے سود حاصل کرے  وہ نعمت کا شکر ادا نہ کرنے والا اور ظُلْم کرنے والا ہے کیونکہ ان سے ان کی ذات مقصود نہیں بلکہ انہیں تو دوسری اشیاء کے حُصول کے لئے پیدا کیا گیا ہے تو جو شخص ان کی تجارت کرے وہ انہیں ان کی وضع و حکمت (یعنی جس کام کے لئے انہیں بنایا گیا ہے اس) کے خلاف استعمال کرنے والا ہے اور کرنسی سے جو کام مقصود ہے اس کے علاوہ کام لینا ظلم ہے۔ اس طرح جس کے پاس کپڑا موجود ہو لیکن کرنسی نہ ہو وہ کھانا یا جانور لینے پر قادر ہی نہ ہوگا کیونکہ ضروری نہیں کہ کپڑے کے بدلے کھانا یا جانور بیچا جاتا ہو لہٰذا وہ مجبور ہوجائے گا کہ کھانا بیچ کر کرنسی حاصل کرے اور انہیں وسیلہ بناکر اپنا مقصود حاصل کرے کیونکہ روپے پیسے  غیر کے حُصول ہی کے لئے وسیلہ ہیں ان کی ذات مقصود نہیں اور اشیاء کے درمیان ان کا وہی مقام ہے جو کلام میں حرف کا ہے جیساکہ نحوی حضرات کہتے ہیں کہ حرف وہی ہوتا ہے جو غیر کے معنی ظاہر کرنے کے لئے آتا ہےجیسے آئینہ رَنگوں کو ظاہر کرتا ہے۔ اس کے برعکس جس کے پاس کرنسی ہو اور اس کے لئے کرنسی کو کرنسی کے بدلے (کمی زیادتی کے ساتھ) بیچنا جائز ہو تو اسے اس کی لَتْ پَڑ جائے گی اور اس طرح کرنسی بھی اسی کے پاس قید ہوکر رہ جائے گی اور وہ ذخیرہ کرنے والوں کی طرح ہوجائے گا اور حاکم یا قاصد کو ایک جگہ روک لینا اسی طرح ظلم ہے جس طرح انہیں قید کرنا ظلم ہے پس کرنسی کو کرنسی کے بدلے (کمی زیادتی کے ساتھ) بیچنے کا مقصد بھی صرف ذخیرہ کرنا ہے لہٰذا یہ بھی ظلم ہے۔
ایک سُوال اور اس کا جواب:
	اگر تم کہو کہ پھر مختلف کرنسیوں کا باہمی تبادلہ یا ایک ہی کو اسی کی مثل کے بدلے بیچنا کیوں جائز ہے؟جواب: تمہیں معلوم ہونا چاہئے کہ مقصود حاصل کرنے کے مُعاملے میں کرنسیاں مختلف ہوتی ہیں ایک کم درجے کی تو دوسری اس سے اعلیٰ، کم درجے والی کرنسی کو تھوڑا تھوڑا کرکے بے شمار مُعاملات میں استعمال کیا جاسکتا ہے جبکہ اعلیٰ درجے والی کو مختلف حاجات کے لئے کم درجے والی سے بدلنا ضروری ہے تو اگر مختلف کرنسیوں کے باہَمی تبادَلے سے منع کردیا جائے تو کرنسی کے مقصود (یعنی اعلیٰ درجے والی کرنسی سے اشیاء کے حصول) میں خَلَل واقع ہوجائے گا۔