Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :4)
274 - 882
 روپے پیسے  کسی خاص فرد زید یا عمر وکے لئے نہیں بنائے گئے چنانچہ ان کی ذات سے کسی کو کوئی مطلب نہیں بلکہ انہیں ایک ہاتھ سے دوسرے ہاتھ میں آنے کے لئے بنایا گیا ہے تو یہ درحقیقت لوگوں کے درمیان فیصلہ کرنے اور اشیاء کی قیمت و حیثیت کی پہچان کرانے کی  علامت ہیں۔ 
	لوگ موجودات کے صفحات پر مَرقُوم ایسی ربانی تحریر کو پڑھنے سے قاصر ہیں جو حرف و آواز سے پاک ہے، جس کا ادراک ظاہری آنکھ سے نہیں بلکہ صرف بصیرت سے ممکن ہے، مخلوق جسے سمجھنے سے عاجز ہے اسے اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے اپنے حبیب صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے وسیلے سے بذریعہ حرف و آواز لوگوں تک پہنچایا تاکہ حرف و آواز کے واسطے سے مخلوق اس کا معنی سمجھ سکے۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے: وَالَّذِیۡنَ یَکْنِزُوۡنَ الذَّہَبَ وَالْفِضَّۃَ وَلَا یُنۡفِقُوۡنَہَا فِیۡ سَبِیۡلِ اللہِ ۙ فَبَشِّرْہُمۡ بِعَذَابٍ اَلِیۡمٍ ﴿ۙ۳۴﴾ (پ۱۰،التوبة:۳۴)
ترجمۂ کنزالایمان: اور وہ کہ جوڑ کر رکھتے ہیں سونا چاندی اور اسےاللہ کی راہ میں خرچ نہیں کرتے انہیں خوش خبری سناؤ دردناک عذاب کی۔
پیٹ میں جہنم کی آگ:
	جو شخص روپے پیسے  کے ذریعے سونے چاندی کے برتن بنائے اس نے ناصرف نعمت کی ناشکری کی بلکہ ایسا شخص روپے پیسے  چُھپاکر رکھنے والے سے بھی بدتر ہے اور اس کی مثال اس شخص کی سی ہے جو شہر کے حاکم کو نہ صرف قید کرے بلکہ اسے کپڑا بننے، جھاڑو لگانے اور ان کاموں میں لگادے جو لوگوں میں بُرے سمجھے جاتے ہیں۔ سونے چاندی کے برتن بنانا انہیں جمع کرنے سے زیادہ برا اس لئے بھی ہے کہ برتن سے مقصود مائع اشیاء کی حفاظت ہے اور اس کام کے لئے سونے چاندی کے علاوہ مٹی، لوہا، سیسہ اور تانبا بھی کافی ہیں لیکن یہ تمام اس غرض کے لئے کافی نہیں جو روپے پیسے  سے مقصود ہے یعنی کرنسی۔ جس شخص پر یہ حقیقت مُنکَشِف نہیں اسے رسول صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے ذریعے آگاہ کردیا گیا چنانچہ مروی ہے کہ جو شخص سونے چاندی کے برتن میں پئے گویا وہ اپنے پیٹ میں جہنم کی آگ بھر رہا ہے۔(1)
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
… مسلم کتاب اللباس ، باب تحریم استعمال اوانی… الخ،ص ۱۱۴۲،حدیث :۲۰۶۵