Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :4)
273 - 882
 برابر ہیں کہ دینار کے ذریعے ان کی قیمت برابر ہے۔ 
	روپے پیسے  کے ذریعے اشیاء کا لین دین اسی لئے ممکن ہے کیونکہ ان سے ذاتی طور پر کوئی غرض نہیں کیونکہ  اگر ان کی ذات سے کوئی خاص کام مقصود ہوتا تو کبھی یہ اس خاص غرض میں استعمال ہوتے اُس شخص کے لئے جسے اِن کی حاجت ہو اور جب کبھی ان کی حاجت نہ ہوتی اس وقت دیگر اشیاء کے معاملات میں استعمال ہوتے یوں  مُعاملات نہ چل پاتے لہٰذا اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے انہیں ایک ہاتھ سے دوسرے ہاتھ میں آنے اور اشیاء کا لین دین مُنصِفانہ طریقے سے کرنے کے لئے بنایا۔
	روپے پیسے کے وجود میں آنے کی ایک حکمت یہ بھی ہے کہ یہ تمام اشیاء کے حُصول کا ذریعہ ہیں کیونکہ یہ فی نفسہٖ محبوب و مقصود نہیں بلکہ ان کی تمام اشیاء کی طرف ایک ہی طرح کی نسبت ہے لہٰذا یہ جس شخص کی مِلک میں ہوں گویا وہ ہرشے کا مالک ہوتا ہے اس کے برخلاف جو شخص کسی اور شے کا مالک ہو مثلاً کوئی شخص کپڑے کا مالک ہے تو اس کی رسائی صرف کپڑوں تک ہی ہوتی ہے اگر اسے کھانے کی حاجت ہو تو ضروری نہیں جس کے پاس کھانا ہو وہ کپڑے ہی میں رغبت رکھتا ہو بلکہ اسے سواری وغیرہ میں بھی رغبت ہوسکتی ہے تو ضرورت ہے ایسی چیز کی جو صورتاً اگرچہ کچھ نہ ہو مگر معنوی طور پر وہی سب کچھ ہو اور جو شے فائدہ پہنچانے کے لئے خاص صورت کا تقاضا نہ کرے اس کی نسبت ہرشے کی طرف یکساں ہوتی ہے جیساکہ آئینہ کہ اس کا خود تو کوئی رنگ نہیں ہوتا لیکن ہررنگ ظاہر کرتا ہے۔ اسی طرح کرنسی بھی خود مقصود نہیں ہوتی لیکن ہرمقصود تک پہنچے کا ذریعہ ہوتی ہے جیسے حرف کہ اس کا کوئی معنی نہیں لیکن لفظوں(یعنی فعل و اسم) کے معانی اسی سے مل کر ظاہر ہوتے ہیں۔ یہ روپے پیسے  کی دوسری حکمت ہے اور اس کے علاوہ بھی حکمتیں ہیں لیکن ان کا ذکر طوالت چاہتا ہے۔
اشیاء کو خلاف ِحکمت  استعمال کرنا ناشکری ہے:
	لہٰذا جو شخص سونا چاندی کو ان کی حکمتوں کے خلاف استعمال کرے وہ ان کے حوالے سے اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی نعمت کا ناشکرا ہے اور جو انہیں چھپا کر رکھے اس نے ان کے ساتھ زیادتی کی اور ان کی حکمت کو ختم کردیا اور یہ بالکل اسی طرح ہے جیسے کوئی شخص مسلمانوں کے حاکم کو قید کرلے جس کی وجہ سے وہ اپنے تمام فیصلوں سے روک دیا جائے کیونکہ جب اسے چھپا دیا گیا تو اس کا فیصلہ بے کار ہوگیا اب اس سے مقصود حاصل نہ ہوگا۔