لہٰذا جو شخص کسی نعمت کو اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی نافرمانی والے کام میں استعمال کرے درحقیقت اس نے اُن تمام نعمتوں میں اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی نافرمانی کی جو بطورِاسباب اس نافرمانی والے کام میں استعمال ہوئیں۔ ہم پوشیدہ حکمت کی ایک ایسی مثال بیان کرتے ہیں جس کی حکمت زیادہ پوشیدہ نہیں ہے تاکہ اس سے نصیحت حاصل کی جائے اور نعمت کے شکر اور ناشکری کا طریقہ معلوم کیا جاسکے۔
روپے پیسے کے وُجود کی حکمتیں:
اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی نعمتوں میں سےروپے پیسے بھی ہیں جو نظامِ دنیا کو قائم رکھے ہوئے ہیں۔ یہ کوئی قیمتی شے نہیں اور نہ ہی ذاتی طور پر ان میں کوئی نفع ہے مگر انسان کو ان کی اَشَد ضرورت ہے کیونکہ ہر انسان کو کھانے، پہننے اور دیگر تمام ضروریات کے لئے بےشمار اشیاء کی ضرورت ہوتی ہےمثلاً: بعض اوقات انسان کے پاس وہ چیز نہیں ہوتی جس کی اسے حاجت ہو اوروہ اس شے کا مالک ہوتا ہے جس کی اسے حاجت نہیں مثلاً ایک شخص زَعْفَران کا مالک ہوتا ہے لیکن اسے اونٹ کی حاجت ہوتی ہے تاکہ اس پر سواری کرے اور دوسرا شخص اونٹ کا مالک ہوتا ہے جبکہ اسے اونٹ کی نہیں بلکہ زعفران کی حاجت ہوتی ہے تو اس کا حل یہ تھا کہ یہ دونوں اپنی اشیاء ایک دوسرے سے بدل لیں لیکن تبادلے میں کوئی مقدارمُقَرَّر کرنا ضروری ہے لہٰذا اونٹ والا زعفران کے بدلے تو اپنا اونٹ دینے پر راضی نہیں ہوگا کیونکہ زعفران اور اونٹ کے درمیان وزن یا صورت کسی اعتبار سے مناسبت نہیں۔ اسی طرح اگر کوئی شخص کپڑوں کے بدلے مکان یا موزے کے بدلے غلام یا گدھے کے بدلے آٹا خریدتا ہے تو ان اشیاء میں بھی کوئی مناسبت نہیں اور یہ بھی نہیں جانا جاسکتا کہ اونٹ کتنی زعفران کے برابر ہے۔ اس طرح کے معاملات طے پانا انتہائی دشوار تھے اور حاجت تھی کہ ان متضاد اشیاء کے درمیان ایک واسطہ بطور حاکم قائم کیا جائے تاکہ ان کے درمیان صحیح فیصلہ کیا جائے اور ان میں سے ہر ایک کی حیثیت معلوم کرلی جائے کیونکہ جب ہر ایک کی حیثیت اور اس کا مرتبہ مقرر ہوجائے گا تو پھر مساوی اور غیرمُساوی اشیاء کا بھی علم ہوجائے گا۔چنانچہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے روپے پیسے کو ان تمام معاملات کے لئے بطور حاکم واسطہ بنایا تاکہ ان کے ذریعے اشیاء کی حیثیت معلوم کی جائے۔ اسی وجہ سے کہا جاتا ہے کہ فلاں اونٹ سو دینار کا ہے اور اتنی مقدار زعفران بھی سو دینار کے برابر ہے تو اونٹ اور یہ زعفران اس حیثیت سے