Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :4)
271 - 882
	لہٰذا جو شے جس کام کے لئے پیدا کی گئی ہے اور جس کا اس سے ارادہ کیا گیا ہے اگر کوئی شخص اسے اس کے علاوہ کسی کام میں استعمال کرے تو اس شے کے استعمال میں اس شخص نے اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی نافرمانی کی۔ مثلاً :اگر کوئی اپنے ہاتھ سے کسی دوسرے کو مارتا ہے تو وہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی دی گئی اس نعمت کی ناشکری کرتا ہے کیونکہ ہاتھ اس لئے ہے کہ نقصان دہ چیز اس کے ذریعے دور کی جائے اور نفع بخش شے حاصل کی جائے نہ اس لئے کہ دوسرے کو نقصان پہنچایا جائے۔ اسی طرح جو شخص غیرمحرم کو دیکھتا ہے تو وہ آنکھ اور سورج دونوں نعمتوں کی ناشکری کرتا ہے کیونکہ یہ دونوں نعمتیں دیکھنے میں مددگار ہیں اور حقیقتاً تو انہیں اس لئے پیدا کیا گیا ہے تاکہ ان کی مدد سے دینی اور دنیاوی فائدے کی طرف نظر کی جائے اور دین و دنیا کے لئے جو کچھ نقصان دہ ہے اس سے بچا جائے، معلوم ہوا کہ بدنگاہی کرنے والے نے ان دونوں نعمتوں کا استعمال اس کے علاوہ میں کیا جس کے لئے انہیں پیدا کیا گیا تھا۔ 
مقصَدِ حیات:
	مخلوق، دنیا اور اس کے اسباب کی پیدائش کا مقصد یہی ہے کہ مخلوق ان کی مدد سے اللہ عَزَّ وَجَلَّ  کا قُرب حاصل کرسکے اور ربّ عَزَّ وَجَلَّ کا قرب حاصل کرنے کے لئے دنیا میں اس کی محبت واُنسیت اور دنیا وی خواہشات سے بچنا بےحد ضروری ہے۔ اللہ عَزَّ وَجَلَّ سے اُنسیت ہردم اس کا ذکر کرنے سے ملتی ہے اور اس کی محبت ہمیشہ اس کی یاد میں ڈوبے رہنے سے حاصل ہونے والی معرفت سے ملتی ہے اور اس کے ذکر اور اس کی یاد پر ہمیشگی اسی وقت تک ممکن ہے جب تک جسم سلامت رہے اور جسم غذا کے ذریعے ہی سلامت رہتا ہے اور غذا زمین، پانی اور ہوا کے ذریعے وجود میں آتی ہے اور ان تمام اُمور کی تکمیل کے لئے آسمان و زمین اور تمام ظاہری اور باطنی اعضاء کی پیدائش ضروری ہے تو یہ تمام اُمور جسم کی وجہ سے ہیں اور جسم نفس کی سواری ہے اور یہی نفس لمبے عرصے کی عبادت و معرفت کے بعد جب اللہ عَزَّ وَجَلَّ کا قُرب حاصل کرلیتا ہے تو نفسِ مُطْمَئِنَّہ کہلاتا ہے جیساکہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ ارشاد فرماتا ہے:
وَمَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَ الْاِنۡسَ اِلَّا لِیَعْبُدُوۡنِ ﴿۵۶﴾ مَاۤ اُرِیۡدُ مِنْہُمۡ مِّنۡ رِّزْقٍ (پ۲۷،الذاريات: ۵۶تا۵۷)
ترجمۂ کنزالایمان:اور میں نے جن اور آدمی اتنے ہی لئے بنائے کہ میری بندگی کریں میں ان سے کچھ رزق نہیں مانگتا۔