Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :4)
270 - 882
 کاج آسان ہوتا ہے اور اندھیرے میں آرام۔ سورج کی صرف یہی ایک حکمت نہیں بلکہ اس کے علاوہ بھی اس کی بےشمار باریک حکمتیں ہیں۔ اسی طرح آسمان پر بادل چھاجانے اور بارش برسنے میں بھی حکمت ہے کہ اس کی وجہ سے زمین لوگوں کے کھانے اور چوپائیوں کے چرنے کے لئے مختلف سبزیاں اگاتی ہے۔ جو دقیق اور پوشیدہ حکمتیں لوگوں کی سمجھ سے بالاتر ہیں ان سے صَرفِ نظر کرتے ہوئے قرآن پاک میں اُن ظاہری حکمتوں  کو بیان کیا گیا ہے جو لوگوں کے ذہنوں کے مطابق ہیں۔اللہ عَزَّ وَجَلَّارشاد فرماتاہے: اَنَّا صَبَبْنَا الْمَآءَ صَبًّا ﴿ۙ۲۵﴾ ثُمَّ شَقَقْنَا الْاَرْضَ شَقًّا ﴿ۙ۲۶﴾ فَاَنۡۢـبَتْنَا فِیۡہَا حَبًّا ﴿ۙ۲۷﴾ وَّ عِنَبًا وَّ قَضْبًا ﴿ۙ۲۸﴾ (پ۳۰،عبس:۲۵تا۲۸)
ترجمۂ کنز الایمان: ہم نے اچھی طرح پانی ڈالا پھر زمین کو خوب چیرا تو اس میں اگایا اناج اور انگوراور چارہ ۔
٭…پوشیدہ حکمت:مثلاًتمام ستاروں اورسیاروں کی حکمتیں پوشیدہ رکھی گئی ہیں۔ساری مخلوق ان کی حکمتوں سے لاعلم ہے اور صرف اتناجانتی ہے کہ یہ ستارے آسمان کی زینت ہیں جنہیں دیکھنے سے آنکھیں ٹھنڈی ہوتی ہیں۔اللہ عَزَّ وَجَلَّ اسی بات کو اپنے کلامِ مجید میں یوں بیان فرماتا ہے:
اِنَّا زَیَّنَّا السَّمَآءَ الدُّنْیَا بِزِیۡنَۃِ ۣالْکَوَاکِبِ ۙ﴿۶﴾ (پ۲۳،الصافات:۶)
ترجمۂ کنز الایمان: بے شک ہم نے نیچے کے آسمان کو تاروں کے سنگار سے آرستہ کیا۔
	دنیا کی تمام اشیاء مثلاً آسمان، ستارے، ہوا، سمندر، پہاڑ، کان، ہریالی، حیوانات اور ان کے اعضاء بلکہ ان اشیاء کے ایک ایک ذرّے میں ایک سے لے کر10ہزار بلکہ  بےشمار حکمتیں ہیں۔ اس اعتبار سے اگر دیکھا جائے تو انسانی اعضاء میں سے بعض اعضاء وہ ہیں جن کی حکمتیں ہرایک جانتا ہے مثلاً :آنکھ دیکھنے کے لئے ہے، ہاتھ پکڑنے کے لئے ہے اور پاؤں چلنے کے لئے ہے نہ کہ سونگھنے کے لئےاوربعض باطنی اعضاء ہیں مثلاً: آنتیں، پتا، جگر، گردے ، رگیں، پٹھے اور دیگر اعضاء جو اندر سے کھوکھلے، آپس میں لپٹے ہوئے، اُلجھے ہوئے، عجیب شکل کے، بہت نرم یا سخت وغیرہ ۔ ان باطنی اعضاء کی حکمتوں سے ہر ایک واقف نہیں اور جو چند لوگ جانتے بھی ہیں تو ان کا علم اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے علم کے مقابلے میں بہت کم ہے جیساکہ ارشاد باری تعالیٰ ہے:
وَمَاۤ اُوۡتِیۡتُمۡ مِّنَ الْعِلْمِ اِلَّا قَلِیۡلًا ﴿۸۵﴾ (پ۱۵،بنی اسرائیل:۸۵)
ترجمۂ کنزالایمان: اور تمہیں علم نہ ملا مگر تھوڑا۔