Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :4)
27 - 882
وَ جَعَلْنَا مِنۡۢ بَیۡنِ اَیۡدِیۡہِمْ سَدًّا وَّ مِنْ خَلْفِہِمْ سَدًّا فَاَغْشَیۡنٰہُمْ فَہُمْ لَا یُبْصِرُوۡنَ ﴿۹﴾ وَ سَوَآءٌ عَلَیۡہِمْ ءَاَنۡذَرْتَہُمْ اَمْ لَمْ تُنۡذِرْہُمْ لَا یُؤْمِنُوۡنَ ﴿۱۰﴾ (پ۲۲،یٰسٓ:۹ تا۱۰)
ترجمۂ کنز الایمان:اور ہم نے اُن کے آگے دیوار بنادی اور ان کے پیچھے ایک دیوار اور اُنھیں اوپر سے ڈھانک دیا تو انھیں کچھ نہیں سوجھتا اور اُنھیں ایک سا ہے تم انھیں ڈراؤ یا نہ ڈراؤ وہ ایمان لانے کے نہیں۔
	اے بندے!آیت مبارکہ میں مذکور لفظ ایمان (یعنی لَا یُؤْمِنُوۡنَ ) تمہیں دھوکے میں نہ ڈالے کہ تم کہنے لگو آیت سے مراد کافر ہے کیونکہ تمہیں پہلے ہی بتا دیا گیا ہے کہ ایمان کے 70 سے کچھ زائد دروازے ہیں اور زانی جب زنا کرتا ہے تو وہ مو من نہیں ہوتا۔پس جو شخص شاخوں اور فروع والے ایمان سے محروم ہے قریب ہے کہ وہ بوقتِ خاتمہ اصل ایمان سے بھی محروم ہوجائے۔جیسے تمام اعضاء سے محروم آدمی عنقریب روح کو ختم کرنے والی مو ت کی طرف چلاجائے گا جو کہ اصل ہے۔ الغرض  فرع کے بغیر اصل کو بَقانہیں اور اصل کے بغیر فرع کا وجود نہیں ہوتا۔ اصل اور فرع کے درمیان صرف ایک ہی شے میں فرق ہے کہ فرع کا وجود اور اس کا باقی رہنا دونو ں اصل کے وجودکو چا ہتے ہیں لیکن اصل کا وجود فر ع کے وجو د کو نہیں چا ہتا۔ لہٰذا اصل کی بقا فرع سے ہے اور فر ع کا وُجود اصل پر موقوف ہے۔ معلوم ہوا کہ عُلُوْمِ مُکاشَفَہ اور عُلُوْ مِ مُعامَلہ ایک دوسرے کو لازم ہیں جیسے فرع اور اصل ایک دوسرے کولازم ہیں اور ان میں سے ایک دوسرے سے بے نیاز نہیں ہوسکتا اگرچہ ایک اصل کے مرتبہ میں ہے اور دوسرا  تابع کے مرتبہ میں۔
	علوم معاملہ اگر عمل پر نہ اُبھاریں تو ان کا نہ ہونا ہونے سے بہترہے کیو نکہ اگر ان سے مقصود عمل بجا نہ لایا جائے تو یہ ان عُلُوم سے موصوف شخص ہی کے خِلاف حُجَّت بن جائیں گے۔ اسی لئے بے عمل عالِم کو عذاب زیادہ ہوگا۔ جیسا کہ ہم نے ”عِلْم کے بیان“ میں احادیْثِ کَرِیْمَہ بیان کردی ہیں۔
چوتھی فصل:				ہر شخص پر ہرحال میں توبہ واجب ہے
	جان لیجئے کہ قرآن کریم کی آیتِ مُقَدَّسہ واضح طورپر اس پر دلا لت کرتی ہےکہ توبہ ہر شخص پر ہرحال میں واجب ہے کوئی بھی اس سے مستثنیٰ وبری نہیں۔چنانچہ ،ارشادِ باری تعالیٰ ہے: