Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :4)
269 - 882
لِمَنِ الْمُلْکُ الْیَوْمَ ؕ لِلہِ الْوَاحِدِ الْقَہَّارِ ﴿۱۶﴾
 (پ۲۴، المؤمن:۱۶)	ترجمۂ کنز الایمان: آج کس کی بادشاہی ہے ایک اللہ سب پر غالب کی۔
	حقیقت میں تو ہردن اسی واحد قَھَّار کی بادشاہی ہے صرف اس روز مخصوص نہیں لیکن اس روز یہ ندا بطور خبر غافلین کو حقیقَتِ حال سے آگاہ کرنے کے لئے سنائی جائے گی اور کچھ نفع نہ دے گی۔ ہم حلم و عزت والے اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی پناہ مانگتے ہیں جہالت اور غفلت سے کیونکہ ہلاکت کے اصل اسباب یہی ہیں۔
چوتھی فصل:	        		 ربّ تعالٰی کی رضا اور ناراضی والے افعال
	جان لیجئے! مکمل طور پر ناشکری سے بچنا اور شکر کرنا اس وقت تک ممکن نہیں جب تک اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی رضا اور اس کی ناراضی والے افعال کا علم حاصل نہ ہوجائے کیونکہ شکر کہتے ہیں اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی نعمتوں کو اس کی رضا والے کاموں میں استعمال کرنا اور ناشکری اس کی ضد ہے یعنی نعمت کو سِرے سے استعمال ہی نہ کیا جائے یا اس کی ناراضی والے کاموں میں استعمال کیا جائے۔
	اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی رضا و ناراضی والے افعال کی پہچان کے دوطریقے ہیں:(۱)…سماعت یعنی آیات و اَحادیث کو سننااور(۲)…قلبی بصیرت یعنی اشیاء کو عبرت کی نگاہ سے دیکھنا ۔قلبی بصیرت کا حُصول انتہائی دشوار ہے اسی وجہ سے اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے رسولوں کو مبعوث فرمایا اور ان کے ذریعے مخلوق پر اَفعال کی پہچان کا راستہ آسان کردیا اور یہ پہچان اسی وقت ممکن ہے جب بندوں کے اَفعال کے متعلق شرعی احکامات کی مَعْرِفَت حاصل ہولہٰذا جس بندے کو اپنے کسی فعل کے متعلق شرعی حکم معلوم ہی نہیں وہ کسی طرح شکرگزار نہیں ہوسکتا۔
	بہرحال قلبی بصیرت سے مراد یہ ہے کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی پیدا کی گئی ہرشے کی حکمت کو جان لینا کیونکہ دنیا میں جو بھی شے پیدا کی گئی ہے اس میں ضرور کوئی حکمت ہے اور اس حکمت کا کو ئی مقصد و نتیجہ بھی ہے جوکہ محبوب ہے۔
حکمت کی اقسام:
	حکمت کی دو قسمیں ہیں: (۱)…ظاہری حکمت (۲)…پوشیدہ حکمت۔
٭…ظاہری حکمت:مثلاً سورج کے وجود کی حکمت یہ ہے کہ دن اور رات کے درمیان فرق ہوسکے، تو دن طلَبِ معاش کے لئے ہوگیا اور رات گھروں میں آرام کے لئے کیونکہ جس وقت دکھائی دے اس وقت کام