گا وہ توحید کے اعلیٰ مرتبے کو پالے گا۔
ایک سوال اور اس کا جواب:
اگر تم یہ کہو کہ ہمیں عمل کا حکم کیوں فرمایا گیا اور عمل نہ کرنے پر عذاب اور گناہ گاروں کی َمذمَّت کا معاملہ کیوں ؟ جبکہ ہمارے اختیار میں کچھ بھی نہیں تمام اختیارات اللہ عَزَّ وَجَلَّ کو ہیں۔
جواب :تمہیں معلوم ہونا چاہئے کہ یہ حکْمِ الٰہی ہمارے اعتقاد کی پختگی کا سبب ہے اور اعتقاد سبب ہے دل میں خوف پیدا ہونے کا اور خوف کے سبب ہی خواہشات سے رُکنا اور دھوکے کی دنیا سے بچنا ممکن ہے اور یہی چیز اللہ عَزَّ وَجَلَّ کا قُرب پانے کا سبب ہے۔ یقیناً اللہ عَزَّ وَجَلَّ مُسَبِّبُ الْاَسْبَاب اور اسباب ترتیب دینے والا ہے۔ جس کے لئے ازل میں سعادت سبقت لے گئی اس کے لئے یہ تمام اسباب آسان کردئیے جاتے ہیں حتّٰی کہ ان کے ذریعے اسے جنت میں داخل کردیا جاتا ہے۔ سیِّدِعالَم، نُورِ مُجَسَّم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے اس فرمان ”فَکُلٌّ مُّیَسَّرٌ لِمَا خُلِقَ لَہ یعنی ہرایک کے لئے وہ کام آسان کردیا جاتا ہے جس کے لئے وہ پیدا کیا گیا ہے“سے یہی مراد ہے اور جس کے لئے اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی طرف سے بھلائی نے سَبْقَت نہ کی وہ شخص کلامِ الٰہی، کلامِ رسول اور عُلَما کی وعظ ونصیحت نہیں سنتا جس کی وجہ سے وہ علم سے محروم رہتا ہے اور علم نہ ہونے کی وجہ سے دل میں خوف پیدا نہیں ہوتا اور خوفِ خدا نہ ہونے کی وجہ سے دنیاوی میلان ختم نہیں ہوتا اور دنیا سے لگاؤ رکھنے کی وجہ سے شیطان کا پیروکار بن جاتا ہے اور بے شک جہنم ان سب کا ٹھکانا ہے۔
جب تم یہ سب کچھ جان لوگے تو تمہیں اندازہ ہوگا کہ لوگوں کو زنجیروں سے کھینچ کر جنت کی طرف لے جایا جاتا ہے۔یعنی انسان جنت میں جانے کے لئے بھی علم اور خوف خدا وغیرہ کی زنجیروں کا پابند ہے کہ انہی کے ذریعے جنت میں داخل کیا جاتا ہے اور بدنصیب و ذلیل شخص غفلت ودھوکے کی زنجیروں میں ہے اور انہی میں جکڑ کر جہنم میں جھونک دیا جاتا ہے۔ اَلْغَرَض نیکوں کو پکڑ کر جنت کی طرف کھینچا جارہا ہے اور مجرموں کو پکڑ کر جہنم میں دھکیلا جارہا ہے اور غالب ایک اللہ عَزَّ وَجَلَّ ہی ہے جو سب پر غالب ہے اور اُس عظمت والے بادشاہ کے سوا کوئی اس فعل پر قادر نہیں ہے۔ غافلوں کی آنکھ سے جب پردہ ہٹایا جائے گا تو وہ بھی اس کا مُشاہَدہ کرلیں گے جب مُنادی کی یہ پکار سنیں گے: