تم میں موجود ہیں اور تمہارا شکرگزار ہونا درحقیقت اپنے ہونے کا ثبوت دینا ہے کیونکہ خالِقِ حقیقی نے تمہیں بنایا اس وجہ سے تم ہو ورنہ خالِقِ حقیقی کا اعتبار کئے بغیر اپنی ذات کا اعتبار کرتے ہوئے حقیقتاً تم کچھ بھی نہیں۔ اسی طرف اشارہ کرتے ہوئے نبیوں کے سردار، دوعالم کے مالک ومختار صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا:”عمل کرو! ہرایک کے لئے وہ کام آسان کردیا جاتا ہے جس کے لئے وہ پیدا کیا گیا ہے۔“ یہ اس وقت فرمایا جب آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سے عرض کی گئی: یارسولَ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ہمیں عمل کا کیا فائدہ جبکہ اشیاء کو اس سے فارغ کردیا گیا ہے۔(1)
معلوم ہوا کہ مخلوق تقدیرِ الٰہی کا مَحْوَر اور اس کے افعال کا محل ہے اگرچہ ساری مخلوق ہی اس کے اَفعال سے ہے لیکن اس کے بعض اَفعال بعض کامحل ہیں اور حدیْثِ مُبارَک میں مذکور لفظ ”عمل کرو“ اگرچہ حضورِ اکرم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی زبانِ مبارک سے جاری ہوا ہے لیکن یہ بھی اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے اَفعا ل میں سے ہے اور اس سے مخلوق کو یہ بھی معلوم ہوا کہ عمل نفع دینے والا ہے۔ مخلوق کا علم بھی اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے اَفعال میں سے ہے اور یہ حرکت و طاعت کی طرف لے جانے والی قوت کو اُبھارنے کا سبب ہے اور اس قوت کا ابھرنا بھی اللہ عَزَّ وَجَلَّ کا فعل اور اعضاء کو حرکت دینے کا سبب ہے اور اعضاء کی حرکت بھی اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے اَفعال میں سے ہے۔ معلوم ہوا کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے بعض افعال بعض کے لئے سبب ہوتے ہیں یعنی پہلا فعل دوسرے کے لئے شرط ہوتا ہے جیساکہ جسم کا ہونا عرض کے لئے سبب ہے کیونکہ جسم سے پہلے عرض کا ہونا ممکن نہیں، یونہی عِلْم کے لئے زندگی کا ہونا شرط ہے اور کسی بھی کام کے ارادے کے لئے علم ہونا ضروری ہے اور یہ تمام کے تمام اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے افعال میں سے ہیں اور ان میں سے بعض بعض کے لئے سبب یعنی شرط ہیں۔
ایک فعل کے دوسرے کے لئے شرط ہونے سے مراد یہ ہے کہ یہی فعل اس کی صلاحیت رکھتا ہے کوئی اور نہیں جیساکہ زندگی قبول کرنے کی صلاحیت صرف جوہر ہی میں ہے اور علم قبول کرنے کی صلاحیت زندہ شخص میں اور ارادہ کرنے کی صلاحیت علم والے ہی میں ہوتی ہےاور یہی مطلب سبب یا شرط ہونے کاہے کہ انہیں غیر کے لئے شرط بنایا گیا ہے نہ کہ یہ دوسرے اَفعال کے موجِد ہیں۔ اس حقیقت سے جو آگاہ ہوجائے
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
… مسلم، کتاب القدر، باب كيفية خلق الاٰدمی… الخ، ص ۱۴۲۳،حدیث : ۲۶۴۷ ،دون’’لماخلق لہ‘‘