Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :4)
266 - 882
 کو ضائع کردیا نہ اس کی فرمانبرداری میں استعمال کیا نہ ہی نافرمانی میں تو بھی اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی نعمت ضائع کرنے کی وجہ سے ناشکرا شمار کیا جائے گا۔
دنیا کی ہرشے انسان کے لئے آلہ ہے:
	دنیا میں پیدا کی گئی ہر چیز انسان کے لئے آلہ ہے تاکہ اس کے ذریعے انسان اُخروی سعادت اور اللہ عَزَّ   وَجَلَّ کاقُرب حاصل کرنے کی کوشش کرے تو ہر فرمانبردار اپنی طاعت کے مطابق اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی نعمتوں کا شکرگزار ہے جنہیں اس نے اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی فرمانبرداری میں استعمال کیا اور ہرکاہل شخص نعمتوں کا استعمال نہ کرنے والا یا اللہ عَزَّوَجَلَّ سے دور کردینے والے کاموں میں انہیں استعمال کرنے والا ناشکرا ہے کہ اللہ عَزَّ   وَجَلَّ کے ناپسندیدہ کاموں میں گرفتار ہے۔بہرحال معصیت ہو یا طاعت مشیَّتِ الٰہی دونوں کو شامل ہوتی ہے لیکن رضا وناراضی مشیت میں شامل نہیں بلکہ کبھی مراد پسندیدہ ہوتی ہے اور کبھی ناپسند۔ اس باریک مسئلہ کے پیچھے قدرت کا راز ہے جسے بیان کرنے سے منع کیا گیا ہے۔
	اس بحث سے یہ اِشکال ”جس کا شکر ادا کیا جائے اسے شکر کی حاجت ہی نہیں تو یہ شکر کیسا؟“ دور ہوگیا اور اسی کے ذریعے دوسرا اِشکال بھی دور ہوگیا کیونکہ شکر سے ہماری مراد یہ ہے کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی نعمتوں کو اس کی رضا والے کاموں میں استعمال کیا جائے۔ جب تم نعمتوں کو اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی رضا والے کاموں میں صرف کروگے تو مراد حاصل ہوجائے گی۔ 
مخلوق تقدیر الٰہی کا محور ہے:
	درحقیقت تمہارا فعل بھی اللہ عَزَّ وَجَلَّ ہی کی عطا ہے اور یہ تم سے صادر ہوتا ہے اس لئے وہ تمہاری تعریف کرتا ہے اور اس کا تعریف کرنا ایک اور نعمت ہے تو وہی دیتا ہے اور خود ہی تعریف کرتا ہے۔ معلوم ہوا کہ اس کا ایک فعل دوسرے فعل کو تعریف کی طرف پھیرنے کا سبب ہوتا ہے۔ ہرحال میں اللہ عَزَّ وَجَلَّ  کا شکر ضروری ہے اور تمہیں شاکر اس لئے کہا جاتا ہے کیونکہ تم اس کے محل ہو، تم میں شکر کا معنیٰ پایا جاتا ہے اس لئے نہیں کہ تم شکر کے ایجاد کرنے والے ہو بالکل ایسے ہی جیسے تمہیں  عالِم کہا جاتا ہے عِلْم جاننے کی وجہ سے نہ کہ علم کا موجِد ہونے کی وجہ سے اور تم ان صفات کا محل اس لئے ہو کیونکہ یہ ربّ تعالیٰ کی طرف سے