Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :4)
265 - 882
میں استعمال کرے جو اسے بادشاہ سے مزید دور کردیں۔ تو اگر وہ کپڑے پہنے گا، سواری پر سوار ہوگا اور بادشاہ کا قرب حاصل کرنے کے لئے ہی زادِراہ خرچ کرے گا تو بادشاہ کا شکر گزار کہلائے گا کیونکہ اس نے بادشاہ کی دی ہوئی نعمتوں کو اسی کے پسندیدہ کاموں میں خرچ کیا اور بادشاہ کے پسندیدہ کام بھی غلام ہی کے حق میں تھے ان میں بادشاہ کا ذاتی کوئی فائدہ نہیں اور اگر وہ سوار ہوکر بادشاہ سے مزید دور چلاجائے تو وہ ناشکرا کہلائے گا کیونکہ اس نے بادشاہ کی دی گئی نعمت کو ان کاموں میں استعمال کیا جو بادشاہ خود اس کے لئے ناپسند کرتا تھا اور اگر بیٹھا رہے نہ سواری پر سوار ہو نہ کہیں جائے تو بھی وہ ناشکرا ہے کیونکہ اس نے ان نعمتوں کو بے کار چھوڑدیا اور ضائع کردیا اگرچہ یہ ناشکری پہلی یعنی دوری اختیار کرنے والی ناشکری سے کم ہے۔
	ایسے ہی اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے انسان کو پیدا فرمایا، فطری طور پر وہ اپنی ابتدا میں خواہِشات کے استعمال کا محتاج ہے کہ اسی کے ذریعے اس کے جسم کی تکمیل کی جاتی ہے تو اس خواہش کی وجہ سے وہ رب تعالیٰ سے دور ہوجاتا ہے جبکہ اس کی سعادت اللہ عَزَّ وَجَلَّ کا قُرب پانے میں ہے لہٰذا اپنا قُرب عطا فرمانے کے لئے اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے اس کے لئے نعمتیں تیار کیں اور اس کے استعمال پر قدرت دی۔ انسان کے قرب و دوری کو اللہ عَزَّ   وَجَلَّ نے اس طرح تعبیر فرمایا، چنانچہ ارشادِ باری تعالیٰ ہے: لَقَدْ خَلَقْنَا الْاِنۡسَانَ فِیۡۤ اَحْسَنِ تَقْوِیۡمٍ ۫﴿۴﴾ ثُمَّ رَدَدْنٰہُ اَسْفَلَ سٰفِلِیۡنَ ۙ﴿۵﴾ اِلَّا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا (پ۳۰، التین:۴ تا۶)
ترجمۂ کنز الایمان: بےشک ہم نے آدمی کو اچھی صورت پر بنایا پھر اسے ہر نیچی سے نیچی سی حالت کی طرف پھیردیا مگر جو ایمان لائے۔
	پس اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے ایسی نعمتیں عطا فرمائیں جن کے ذریعے بندہ سب سے نچلے درجے سے ترقی پاسکتا ہے اور یہ سب نعمتیں اس نے بندے ہی کی وجہ سے پیدا فرمائیں تاکہ ان کے ذریعے وہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے قُرب کی سعادت پاسکے ورنہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ قرب و دوری سے پاک ہے۔ اب اگر بندہ ان نعمتوں کو اس کی فرمانبرداری میں استعمال کرے گا تو اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے پسندیدہ کاموں کو بجالانے کی وجہ سے شکرگزار شمار کیا جائے گا اور اگر اس کی نافرمانی میں استعمال کرے گا تو اللہ عَزَّ وَجَلَّ کو ناپسند اور اس کی ناراضی والے کام کرنے کی وجہ سے ناشکرا شمار کیا جائے گا کیونکہ بندوں کی طرف سے ناشکری اور نافرمانی سے اللہ عَزَّ وَجَلَّ ناراض ہوتا ہے اور اگر ان نعمتوں