رکھیں اور عُلومِ مُعاملہ میں جن چیزوں کا جاننا ضروری ہے ان کی طرف رجوع کریں، جن میں سے ایک یہ ہے کہ انبیائے کرام عَلَیْہِمُ السَّلَام کو مبعوث ہی اس لئے فرمایا گیا تاکہ وہ مخلوق کو کمالِ توحید جسے ابھی ہم نے بیان کیا اس کی دعوت دیں لیکن کمالِ توحید اور لوگوں کے درمیان طویل مسافت اور سخت رکاوٹیں ہیں اور شریعت اس مسافت کو طے کرنے اور ان رکاوٹوں کو دور کرنے کا طریقہ بتاتی ہے۔ شریعت پر مکمل عمل پیرا ہوکر انسان کا مشاہدہ اور مقام تبدیل ہوجاتا ہے، اس وقت اس پر ظاہر ہوجاتا ہے کہ شکر، شاکر اور مَشْکُور کیا ہے۔ اس بات کو مثال کے ذریعے ہی جاننا ممکن ہے۔
مثال: فرض کرو کہ بادشاہ اپنے کسی دور رہنے والے غلام کو سواری، کپڑے اور اس جگہ کو چھوڑ کر قریب رہائش کرنے کے لئے کچھ نَقْدی بھیجے تو بادشاہ کی یہ عنایت دو حالتوں سے خالی نہ ہو گی:
پہلی حالت: اس عنایت سے بادشاہ کا مقصد یہ ہو کہ بعض اہم مُعاملات اس کے سپرد کئے جائیں اس وقت اس عنایت کی وجہ بادشاہ کی اپنی خدمت ہوگی۔
دوسری حالت: بادشاہ کو اس سے کوئی غرض اور اس کی حاجت نہ ہو اور نہ ہی اس کے بادشاہ کے پاس آجانے سے بادشاہ کی ملکیت میں کوئی اضافہ ہو کیونکہ اس میں ایسی خدمت کرنے کی طاقت ہی نہیں جس کی وجہ سے بادشاہ بےفکر ہوجائے اور اس کی غیر موجودگی بادشاہ کی ملکیت میں نقصان کا باعث بھی نہ ہو تو اس وقت بادشاہ کا اس کو سواری و زادِراہ دینے کا مقصد محض یہ ہوگا کہ وہ بادشاہ کا قُرب حاصل کرے اور اس قُرب کی سعادت سے صرف اس کی ذات کو فائدہ پہنچے بادشاہ کا اس میں کوئی فائدہ نہیں۔مخلوق کے اعتبار سے اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی دوسری حالت ہے، اس کے لئے پہلی حالت محال ہے۔پھر یہ کہ پہلی حالت میں غلام صرف سواری قبول کرنے اور بادشاہ کا قُرب حاصل کرنے سے ہی شاکر نہیں کہلائے جب تک خود کو بادشاہ کی اس خدمت پر مامور نہ کرلے جس کا بادشاہ نے ارادہ کیا تھا اور دوسری حالت میں بادشاہ کو تو اس کی خدمت کی بالکل حاجت نہیں لیکن اس کے باوجود وہ شکرگزار یا ناشکرا تصور کیا جائے گا۔ اس حالت میں اس کا شکر یہ ہے کہ جن انعام واکرام سے وہ نوازا گیا ہے انہیں بادشاہ کے پسندیدہ کاموں میں استعمال کرے نہ کہ اپنی خواہش کے مطابق اوراس کی ناشکری یہ ہے کہ بادشاہ کی چاہت کے مُطابِق ان کا استعمال نہ کرے بلکہ انہیں ضائع کردے یا پھر ان کاموں