اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا آخری اور سب سے بلند مقام کیا ہوگا جبکہ آپ نے ابتدائی مَقام ومرتبے میں ہی حق تعالیٰ کا مُشاہَدہ کرلیا اور یہی نہیں بلکہ یہ مرتبہ بھی پالیا کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے سوا کسی شے کا مشاہدہ کرنے اور اس کی طرف نظر کرنے سے بری ہوگئے۔ حُضور اکرمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ایک مرتبے سے دوسرے مرتبے کی طرف ترقی کرتےتو پہلے مرتبے کے مقابلے میں دوسرے مرتبے کو اللہ عَزَّ وَجَلَّ سے دور گمان کرتے اور بلند درجہ حاصل کرنے کے بعد پہلے کے متعلق اللہ عَزَّ وَجَلَّ سے اِستغفار کرتے اور اسے کمتر اور درجات میں کمی کا سبب گمان کرتے۔ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا یہ فرمان اسی بات کی طرف اشاہ کرتا ہے: ”میرے دل پر کبھی پردہ آجاتا ہے اور میں روزانہ ستر مرتبہ استغفار کرتا ہوں۔“(1)
آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکا ایسا فرمانا اس لئے تھا کہ ایک دن میں آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا مقام ستر درجے بلند کیا جائے اور ان میں سے ہرایک درجہ دوسرے سے بلند ہواگرچہ حُضور اَکرم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا پہلا درجہ ہی مخلوق کا آخری اور بلند ترین درجہ ہے لیکن چونکہ پہلادَرَجہ دوسرے کے مقابلے میں کمتر ہےاِس لئے ربّ تعالیٰ کی بارگاہ میں استغفار کرتے۔یہی وجہ ہے کہ جب اُمُّالمؤمنین حضرت سیِّدَتُنا عائشہ صدیقہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا نے عرض کی کہ آپ کے سبب اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے آپ کے اگلوں اور آپ کے پچھلوں کے گناہ بخش دیئے تو پھر سجدوں میں یہ اشکباری کیوں؟“ اس پر آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا:” کیا میں شکرگزار بندہ نہ بنوں۔“(2)
اس فرمانِ عالی سے مراد یہ ہے کہ شکر نعمت کی زیادتی کا سبب ہےجیساکہاللہ عَزَّ وَجَلَّ ارشاد فرماتا ہے:
لَئِنۡ شَکَرْتُمْ لَاَزِیۡدَنَّکُمْ (پ۱۳،ابراھیم:۷)
ترجمۂ کنز الایمان: اگر احسان مانوگے تو میں تمہیں اور دوں گا۔
شکر، شاکر اور مشکور کی حقیقت:
اب جبکہ ہم عِلْمِ مُکاشَفہ کے سمندر میں اُتر چکے ہیں تو ہمیں چاہئے کہ مہار(یعنی نکیل) خوب قابو میں
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
… بخاری، کتاب الدعوات، باب استغفار النبی فی الیوم واللیلة،۴/ ۱۹۰، حدیث : ۶۳۰۷،دون’’انہ لیغان علی قلبی‘‘
مسلم، کتاب العلم، باب استحباب الاستغفار ، حدیث : ۲۷۰۲، ص ۱۴۴۹،فیہ’’مائة مرة‘‘
2… الاحسان بترتیب صحیح ابن حبان،کتاب الرقاق، باب التوبة،۲/ ۸، حدیث : ۶۱۹