بِرِضَاکَ مِنْ سَخَطِکَ وَاَعُوْذُ بِکَ مِنْکَ لَااُحْصِیْ ثَنَاءً عَلَیْکَ اَنْتَ کَمَا اَثْنَیْتَ عَلٰی نَفْسِک یعنی (مولیٰ!) میں تیری پکڑ سے تیرے عفو ودرگزر کی پناہ مانگتا ہوں، تیری ناراضی سے تیری رضا کی پناہ مانگتا ہوں، تیری صفات(گرفت وغضب) سے تیری پناہ مانگتا ہوں، میں تیری تعریف کی طاقت نہیں رکھتا تو ویسا ہی ہے جیسی تعریف خود تو نے اپنی کی۔“(1)
دعائے مصطفٰے کی شرح:
آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی دعا کا یہ جملہ ”اَعُوْذُ بِعَفْوِکَ مِنْ عِقَابِک“اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے صرف افعال کا مُشاہَدہ کرنے کی وجہ سے تھا۔ گویا آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے جب اللہ عَزَّ وَجَلَّاور اس کے افعال کا مشاہدہ کیا تو اسی کے ایک فعل کے ذریعے اس کے دوسرے فعل سے پناہ مانگی، پھر مزید قرب حاصل کرتے گئے حتی کہ اس کے افعال سے ترقی پاکر اس کی صِفات کا مُشاہَدہ فرمایا تو یہ دعا مانگی ”اَعُوْذُ بِرِضَاکَ مِنْ سَخَطِکَ“ حضورِاکرم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نےاس کے بعد بھی توحیدکے درجات میں ترقی کے لئے مزید قُرب حاصل کیا حتّٰی کہ صفات سے ترقی پاکر ربّعَزَّ وَجَلَّ کی ذات کا مشاہدہ فرمایا، اس وقت آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ان الفاظ سے دعا کی ”اَعُوْذُ بِکَ مِنْک“ اور اس سے مراد اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے اَفعال وصفات کی طرف توجہ کئے بغیر صرف اس کی ذات کو مَدِّنظر رکھتے ہوئے اس کی پناہ طلب کرنا اور اس کی تعریف کرنا ہے۔ اس مرتبے کو پاکرتوحیدکے درجات میں ترقی کے لئے مزید قُرب حاصل کیا اور پھر یہ جملہ ارشاد فرمایا:”لَا اُحْصِیْ ثَنَاءً عَلَیْکَ کَمَا اَثْنَیْتَ عَلٰی نَفْسِک“آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا”لَا اُحْصِی“فرمانادرحقیقت اپنے آپ کو فنا کردینے اور مشاہدۂ نفس سے آگے بڑھ جانے کی خبر دینا ہے اور آپ کا ” ثَنَاءً عَلَیْکَ کَمَا اَثْنَیْتَ عَلٰی نَفْسِک“فرمانا درحقیقت یہ بات بیان کرنا ہے کہ وہی تعریف کرنے والا ہے اور اسی کی تعریف کی جاتی ہے، ہرچیز کی ابتدا اسی سے ہے اور ہرایک نے اسی کی طرف لوٹنا ہے اور اس کی ذات کے سوا ہرچیز فانی ہے۔
معلوم ہوا کہ جو دیگر لوگوں کی انتہا اور کمالِ توحید ہے یعنی ”صرف اللہ عَزَّ وَجَلَّ اور اس کے اَفعال کا مشاہدہ کرنا اور اسی کے ایک فعل کے ذریعے اس کے دوسرے فعل سے پناہ مانگنا“وہ سرکارِ دوجہان، رحمتِ عالمیان صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی ابتدا اور بلندی کا آغاز ہے تو ذرا غور کیجئے! سردارِ انبیا، محبوبِ ربِّ کبریا صَلَّی
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
… سنن الدار قطنی ، کتاب الطہارة، باب صفة ماینقض الوضوء…الخ،۱/ ۲۰۵، حدیث :۵۰۸