مَا نَعْبُدُہُمْ اِلَّا لِیُقَرِّبُوۡنَاۤ اِلَی اللہِ زُلْفٰی ؕ (پ۲۳،الزمر:۳)
ترجمۂ کنز الایمان: ہم تو انہیں صرف اتنی بات کے لئے پوجتے ہیں کہ یہ ہمیں اللہ کے پاس نزدیک کردیں۔
تو وہ اپنے اس قول کے سبب قائلین توحید میں شامل ہوگئے اور عقیدہ بہت کمزور ہونے کے سبب ان کا شمار قائلین توحید کے سب سے نچلے طَبقے میں ہوتا ہے۔ توحید کا عقیدہ رکھنے والوں میں سے اکثر لوگوں کا عقیدہ مُتَوَسِّط درجے کا ہوتا ہے کیونکہ بعض لوگوں پر بعض اَحوال روشن ہونے کی وجہ سے توحید کی حقیقت واضح تو ہوجاتی ہے لیکن یہ سب کچھ بجلی کی طرح ہوتا ہے کہ چمکی اور ختم ہوگئی وہ اس پر قائم نہیں رہتے اور بعض لوگ اس پر ثابت قدم بھی رہتے ہیں لیکن کچھ عرصہ، ہمیشگی اختیار نہیں کرپاتے جبکہ اس پر ہمیشگی اختیار کرنا ہی توحید کا سب سے بلند درجہ اور کمالِ توحید ہے۔ جیساکہ شاعر کہتا ہے:
لِکُلٍّ اِلٰی شَاْوِ الْعُلَا حَرَکَاتٌ وَلٰکِنْ عَزِیْزٌ فِیْ الرِّجَالِ ثُبَاتٌ
ترجمہ:بلندی کے حُصول کے لئے کوشش تو ہرشخص کرتا ہے لیکن ثابت قدم کوئی کوئی رہتا ہے۔
قُربِ باری تعالیٰ کے لئے دعائے مصطفٰے:
اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے جب اپنا مزید قرب عطا فرمانے کے لئے اپنے محبوب صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو حکم ارشاد فرمایا کہ وَ اسْجُدْ وَ اقْتَرِبْ ﴿٪ٛ۱۹﴾ (1)(ترجمۂ کنز الایمان: اور سجدہ کرو اور ہم سے قریب ہوجاؤ۔پ۳۰، العلق:۱۹)تو اس وقت سردارِ انبیا صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے سجدے میں یہ دعا کی:”اَعُوْذُ بِعَفْوِکَ مِنْ عِقَابِکَ وَاَعُوْذُ
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
… یہ آیت سجدہ ہے۔ ”بہار شریعت“، جلد اول ،صفحہ 728 پر ہے:”آیتِ سجدہ پڑھنے یا سننے سے سجدہ واجب ہوجاتا ہے۔ سجدہ واجب ہونے کے لئے پوری آیت پڑھنا ضروی نہیں بلکہ وہ لفظ جس میں سجدہ کا مادہ پایا جاتا ہے اور اس کے ساتھ قبل یا بعد کا کوئی لفظ ملاکر پڑھنا کافی ہے۔“ اور صفحہ 730پر ہے:”فارسی یا کسی اور زبان میں آیت کا ترجمہ پڑھا تو پڑھنے والے اور سننے والے پر سجدہ واجب ہوگیا، سننے والے نے یہ سمجھا ہو یا نہیں کہ آیتِ سجدہ کا ترجمہ ہے، البتہ یہ ضرور ہے کہ اسے نامعلوم ہو تو بتادیا گیا ہو کہ یہ آیت سجدہ کا ترجمہ تھا اور آیت پڑھی گئی ہو تو اس کی ضرورت نہیں کہ سننے والے کو آیت سجدہ ہونا بتایا گیا ہو۔“
نوٹ: مزید تفصیل کے لئے بہار شریعت کے مذکورہ مقام کے صفحہ 720 تا739یا دعوت اسلامی کے اشاعتی ادارے مکتبۃ المدینہ کے مطبوعہ49 صفحات پر مشتمل رسالے ”تلاوت کی فضیلت“ کا مطالعہ کیجئے۔