Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :4)
260 - 882
 علاوہ کا فانی ہونا انہیں دکھائی نہیں دیتا اور وہ غیرُاللہ کا وجود بھی اللہ عَزَّ وَجَلَّ ہی کی طرح مانتے ہیں یعنی غیرُاللہ کو اللہ عَزَّ وَجَلَّ کا شریک ٹھہراتے ہیں اور یہ لوگ پَکّے مُشرک ہیں جیساکہ پہلی قِسْم والے پَکّے مُنکِر ہیں۔
	کسی  شخص کا اگر اندھا پن ختم ہوجائے اگرچہ کمزورنظر ہی حاصل ہو تو بھی اسے دونوں کے وجود کا فرق معلوم ہوجائے گا جس سے اس پر اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی رَبُوبِیَّت اور بندے کی عَبْدِیَّت ثابت ہوجائے گی۔
”لَا اِلٰہَ اِلَّا اللہُ“کا حقیقی معنیٰ:
	وَحْدَانِیَّت کا مُنکِر شخص جب خالق ومخلوق کے وُجود کا فرق اورغَیْرِخُدا کے فانی ہونے کو جان لے گا تو عقیدۂ توحید رکھنے والوں میں شامل ہوجائے گا۔ پھر اگر اس کی آنکھ میں سُرمہ لگایا جائے جس سے اس کی بینائی میں اضافہ ہوتا رہے تو اس پر اس عقیدے کی خرابی بھی ظاہر ہوجائے گی جو اس نے اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کے لئے ثابت کیا تھا۔ اب اگر وہ اس پر قائم رہتے ہوئے صوفیائے کرام کے نقْشِ قَدَم پر چلتا رہا تو غیْرِخُدا کا وُجود اس کے ذہن سے مٹتا چلا جائے گا حتّٰی کہ ایک وقت آئے گا کہ اس کے دل ودماغ میں صرف ربّ تعالیٰ کا تصوُّر ہوگا۔ یہ حالت توحید کی انتہا اور کمال ہے اور جس وقت اس نے غیرخدا کے وجود کے فنا ہونے کو جانا تھا وہ حالت توحید کی ابتدا ہے اور ان دونوں کے درمیان بے شمار درجات ہیں۔ معلوم ہوا کہ توحید کے قائلین کے مختلف دَرَجات ہیں۔ اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے انبیائے کرام عَلَیْہِمُ السَّلَام پر جو کتابیں نازل فرمائیں وہ سرمہ ہیں جو بینائی بڑھانے یعنی بلندیِ دَرَجات میں مددگار ہیں اور انبیائے کرام عَلَیْہِمُ السَّلَام سرمہ لگانے والے ہیں اور وہ صرف اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی وحدانیت کی پہچان کروانے کے لئے دنیا میں تشریف لائے۔ گویا انبیائے کرام عَلَیْہِمُ السَّلَام اس قول ”لَا اِلٰہَ اِلَّا اللہ“کے تَرجُمان ہیں اور اس کا معنیٰ یہ ہے کہ انسان کی نظر صرف اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی ذات پر ہو۔
قائلین توحید کے مَراتب:
	کمالِ توحید کا مرتبہ پانے والے بہت ہی تھوڑے افراد ہیں اور منکرین و مشرکین بمقابلہ قائلین توحید کے کم ہیں کیونکہ بُتوں کی پوجا کرنے والوں نے جب وُجودِ باری تعالیٰ کا اقرار کرلیا جسے اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے انہی کے الفاظ میں نقل فرمایا: