جب بیمار ہوجائے تو موت سے ڈرتا ہے۔“یونہی گناہ گارشخص بُرے خاتمے سے ڈرتا ہے، پھر اگر اس کا خاتمہ بُرا ہوگا تو ہمیشہ کے لئے جہنم میں رہنا پڑے گا۔اَلۡعِیَاذُبِاللہ
ایمان کے لئے خطرہ:
پس گناہ ایمان کے لئے اسی طرح نقصان دہ ہیں جیسے مضر صحت کھانے جسم کو نقصان پہنچاتے ہیں۔یہ کھانے معدے میں جمع ہو تے رہتے ہیں یہاں تک کہ خون وبلغم وغیرہ کے مزاج میں تبدیلی آنا شروع ہوجاتی ہے اور اسے شُعُور بھی نہیں ہوتا حتّٰی کہ مِزاج بگڑ جا تا ہےاوروہ اچانک بیما ر پڑجا تا ہے اور پھر اچانک موت کا شکار ہوجاتا ہے۔ یہی معاملہ گناہوں کا بھی ہے۔
گناہوں کا زہر:
لہٰذاجب اس ناپائیدار دنیا میں ہلاکت کا خوف رکھنے والے پرلازم ہے کہ زہر سے بچے اور ہر اس کھانے سے فوری طور پر اور ہر حال میں بچے جو نقصان دہ ہے تو پھرہمیشگی کی ہلاکت کا خوف رکھنے والے پربَدَرَجَہ اَوْلیٰ واجب ہے کہ گناہوں سے بچتا رہے۔ اسی طرح جب زہر کھانے والے پر واجب ہے کہ جو ں ہی نادم ہوفوراً قے کردے اورجسم کو ہلاکت سے بچانے کے لئے اسے معدے سے نکال کر آئندہ اس کے کھانے سے پرہیز کرے تو پھر دین کو ختم کرنے والا زہر کھانے والے یعنی ارتکابِ گناہ کرنے والےپر بدرجہ اولیٰ واجب ہے کہ جب تک تدارُک وتلافی کے لئے مہلت یعنی عمر باقی ہے ممکنہ حد تک تدارک کے ذریعے گناہوں سے توبہ کرے کیونکہ اِس زہر سے ڈرانے والی شے باقی رہنے والی آخرت سے محرومی ہے کہ جس میں ہمیشہ کی نعمتیں اور عظیم سلطنت ہے اور اس سے محرومی کی صورت میں درزخ کی آگ اور ہمیشگی کا عذاب ہے۔ دنیاکی کئی گنا زندگی اس کا عُشْرِعَشِیر بھی نہیں کیونکہ اس کی کو ئی انتہا نہیں۔
اس سے قبل کہ گنا ہوں کا زہر روح ایمان پر وہ اثرڈالے جس کاعلاج طبیبوں کے پاس نہ ہو اور نہ نصیحت والوں کی نصیحت اور وعظ والوں کا وعظ فائدہ دے توبہ کی طرف جلدی کرنی چاہئے، اگر توبہ نہ کی تو اس پر یہ بات صادق آئے گی کہ وہ ہلاک ہونے والو ں میں سے ہے اور وہ اس فرمانِ باری تعالیٰ کے عموم میں داخل ہوگا: