مذاق بنایا اس پر آپ عَلَیْہِ السَّلَام نے بھی انہیں اسی طرح کا جواب ارشاد فرمایاجیساکہ قرآنِ کریم میں ہے:
اِنۡ تَسْخَرُوۡا مِنَّا فَاِنَّا نَسْخَرُ مِنۡکُمْ کَمَا تَسْخَرُوۡنَ ﴿ؕ۳۸﴾ (پ۱۲،ھود:۳۸)
ترجمۂ کنز الایمان: اگر تم ہم پر ہنستے ہو تو ایک وقت ہم تم پر ہنسیں گے جیسا تم ہنستے ہو۔
یہ پہلے گروہ کا نظریہ ہے۔
(2)...وحدانیت کے منکر:
یہ وہ لوگ ہیں جنہیں فَنَافِی اللہ کے مقام سے دور تک کوئی واسطہ نہیں۔ ان میں دو قِسْم کے لوگ پائے جاتے ہیں:
٭…پہلی قسم: ان لوگوں کی ہے جو صرف اپنے وُجود کا اقرار کرتے ہیں اور اس بات کا انکار کرتے ہیں کہ ان کا کوئی ربّ اور کوئی معبود ہے۔ یہ سارے کے سارے آنکھوں سے اندھے اور عقل سے پیدل ہیں کیونکہ یہ اس بات کا انکار کرتے ہیں جو یقینی طور پر ثابت ہے یعنی ”قَیُّوم“وہی ہے جو بذاتِ خود قائم ہے، ہرجان کو اس پر قائم رکھے ہوئے ہے جو کچھ اسے کرنا ہے اور ہر شے قائم ہونے میں اسی کی محتاج ہے۔
یہ لوگ صرف اسی پر اِکتفا نہیں کرتے بلکہ اپنے آپ کو ”قائم بِالذّات“ بھی مانتے ہیں۔ اگر یہ لوگ جاننا چاہتے تو ضرور انہیں معلوم ہوجاتا کہ نہ ان کا قیام بالذات ہے نہ ہی وُجود کیونکہ ان کا وُجود کسی کے سبب سے ہے خود سے ان کا وجود نہیں اور خود موجود ہونے اور کسی کے سبب سے ہونے میں بڑا فرق ہے۔
وجود دوطرح کا ہے:
کسی بھی شے کے وجود میں آنے کے دو ہی طریقے ہیں: (۱)…خود وجود میں آئے یا(۲)…کسی کے سبب سے۔ خود وجود میں آنے والی شے کا وجود بِالذّات ہے اور وہی قیوم ہے اور جو کسی کے سبب سے وجود میں آئے اس کا وجود باطل وفانی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جب ہر چیز فنا ہوجائے گی اس وقت بھی تمہارا پَروَرْدَگار عَزَّ وَجَلَّ موجود رہے گا۔
٭…دوسری قسم: ان لوگوں کی ہے جو اندھے تو نہیں مگر کانے ضرور ہیں کیونکہ وہ وجودِ باری تعالیٰ کے منکر تو نہیں لیکن ان کا اقرار بھی ایک آنکھ والا ہے اور دوسری آنکھ سے چونکہ نظر ہی نہیں آتا لہٰذا اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے