Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :4)
258 - 882
 جب اپنے بیٹے سے بیٹا ہونے کی وجہ سے پیار کرتا ہے تو درحقیقت وہ اپنے آپ سے پیار کرتا ہے اور اللہ عَزَّ   وَجَلَّ کے سوا ہر چیز کا وجود اسی کے بنانے سے ہے لہٰذا اگر اللہ عَزَّ وَجَلَّ اپنی بنائی ہوئی چیز کو پسند فرماتا ہے تو درحقیقت وہ اپنی ذات ہی کو پسند فرماتا ہے اور جب وہ اپنے آپ ہی کو پسند فرماتا ہے تو وہ مختار ہے جسے چاہے پسند فرمائے۔
	یہ حالت ان لوگوں کی ہوتی ہے جو ہر وقت اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی یاد میں ڈوبے رہتے ہیں۔ صوفیائے کرام اس حالت کو ”فنا فی النفس“ کا نام دیتے ہیں یعنی ایسا شخص جواللہ عَزَّ وَجَلَّکے علاوہ ہر چیز حتّٰی کہ اپنا آپ بھی بھلا دیتا ہے اور صرف اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے جلووں میں گم رہتا ہے۔ جو شخص اس نظریہ کو سمجھنے کی صلاحیت نہیں رکھتا وہ اس کا انکار کردیتا ہے اور کہتا ہے: کوئی شخص خود کو کیسے بھلا سکتا ہے جبکہ اس کا سایہ چار ہاتھ ہوتا ہے اور دن بھر میں شاید کئی روٹیاں کھاجاتا ہوگا۔
	بےدین لوگ صوفیائے کرام کے کلام کو نہ سمجھنے کی وجہ سے ان پر ہنستے اور باتیں بناتے ہیں اور ان کی عادت ہے کہ وہ اللہ والوں کے اقوال کا مذاق بناتے ہیں۔ اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے اس طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا: اِنَّ الَّذِیۡنَ اَجْرَمُوۡا کَانُوۡا مِنَ الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا یَضْحَکُوۡنَ ﴿۫ۖ۲۹﴾ وَ اِذَا مَرُّوۡا بِہِمْ یَتَغَامَزُوۡنَ ﴿۫ۖ۳۰﴾ وَ اِذَا انۡقَلَبُوۡۤا اِلٰۤی اَہۡلِہِمُ انۡقَلَبُوۡا فَکِہِیۡنَ ﴿۫ۖ۳۱﴾ وَ اِذَا رَاَوۡہُمْ قَالُوۡۤا اِنَّ ہٰۤؤُلَآءِ لَضَآلُّوۡنَ ﴿ۙ۳۲﴾ وَ مَاۤ اُرْسِلُوۡا عَلَیۡہِمْ حٰفِظِیۡنَ ﴿ؕ۳۳﴾ (پ۳۰، المطففین:۲۹ تا۳۳)
ترجمۂ کنز الایمان: بےشک مجرم لوگ ایمان والوں سے ہنسا کرتے تھے اور جب وہ ان پر گزرتے تو یہ آپس میں ان پر آنکھوں سے اشارے کرتے اور جب اپنے گھر پلٹتے خوشیاں کرتے پلٹتے اور جب مسلمانوں کو دیکھتے کہتے بےشک یہ لوگ بہکے ہوئے ہیں اور یہ کچھ ان پر نگہبان بناکر نہ بھیجے گئے۔
	اسی کے ساتھ یہ بھی ارشاد فرمایا کہ کل بروزِقیامت نیک لوگ ان بے دینوں پر زیادہ ہنسیں گے۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے: فَالْیَوْمَ الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا مِنَ الْکُفَّارِ یَضْحَکُوۡنَ ﴿ۙ۳۴﴾عَلَی الْاَرَآئِکِ ۙ یَنۡظُرُوۡنَ ﴿ؕ۳۵﴾ (پ۳۰،المطففین:۳۴ تا۳۵)
ترجمۂ کنز الایمان:توآج ایمان والے کافروں سے ہنستے ہیں تختوں پر بیٹھے دیکھتے ہیں۔
	یونہی حضرت سیِّدُنا نوح عَلٰی نَبِیِّنَاوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام جب کشتی بنانے میں مشغول ہوئے تو ان کی قوم نے ان کا