Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :4)
257 - 882
 قائم رکھنے والا، یکتا اور بے نیاز ہے۔ جب تم ان فَنَافِی اللہ لوگوں کے نظریےمیں غور وفکر کروگے تو جان لو گے کہ ہر چیز کا خالق وہی ہے، اسی کی طرف لوٹنا ہے، وہی شاکر وہی مَشْکُور، وہی مُحِب اور وہی محبوب ہے۔
خود ہی دیتا ہے اور تعریف بھی کرتا ہے:
	حضرتِ سیِّدُنا حبیب بن ابوحبیب رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ ان لوگوں میں سے تھے جو ہر وقت اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے جلووں میں گم رہتے۔ یہی وجہ ہے کہ جب یہ آیتِ مُبارَکہ:
اِنَّا وَجَدْنٰہُ صَابِرًا ؕ نِعْمَ الْعَبْدُ ؕ اِنَّہٗۤ اَوَّابٌ ﴿۴۴﴾ (پ۲۳،ص:۴۴)
ترجمۂ کنز الایمان: بےشک ہم نے اسے صابر پایا کیا اچھا بندہ بےشک وہ بہت رجوع لانے والا ہے۔
	تلاوت کرتے تو کہتے: بہت خوب! خود ہی دیتا ہے اور تعریف بھی کرتا ہے۔
	آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کے قول میں اس طرف بھی اشارہ ہے کہ جب اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے اپنی دی ہوئی چیز کی تعریف کی تو اپنی ہی تعریف کی لہٰذا و ہی تعریف کرنے والا ہوا اور اسی کی تعریف کی گئی۔
وہی مُحِب بھی ہے اور محبوب بھی:
	اسی فَنَافِی اللہ کے مرتبے پر فائز شیخ حضرت سیِّدُنا ابُوالحَسَن مِیْھَنِیرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کے سامنے جب یہ آیَتِ مبارکہ :
یُّحِبُّہُمْ وَیُحِبُّوۡنَہٗۤ ۙ (پ۶،المائدہ:۵۴)
ترجمۂ کنز الایمان:وہ اللہ کے پیارے اور اللہ ان کا پیارا۔
تلاوت کی گئی تو کہنے لگے: میری عمر کی قسم!اللہ عَزَّ وَجَلَّ ان سے محبَّت کرتا ہے اسے محبت کرنے دو، حق تو یہ ہے کہ رب تعالیٰ ان سے اس لئے محبت کرتا ہے کیونکہ وہ اپنے آپ سے محبت کرتا ہے۔
	آپ کے اس قول سے معلوم ہوتا ہے کہ رب تعالیٰ مُحِب بھی ہے اور محبوب بھی۔ یہ مرتبہ بہت بلند ہے، اسے صرف مثال کے ذریعے سمجھا جاسکتا ہے جو تمہاری عقل کے مطابق ہو۔مثلاً: اس بات سے تم بخوبی آگاہ ہوگے کہ جب کوئی شخص اپنی تصنیف کو پسند کرتا ہے تو درحقیقت وہ اپنے آپ ہی کو پسند کرتا ہے، ہنرمند جب اپنی کسی بنائی ہوئی چیز کو پسند کرتا ہے تو وہ بھی درحقیقت اپنے آپ کو پسند کرتا ہے، یونہی باپ