Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :4)
256 - 882
یہ بات قابل غور ہے اگر ممکن ہو تو اسے مثال کے ذریعے واضح کردیا جائے۔
	جواب :پہلے تو یہ جان لو کہ یہ بات معارِف یعنی عُلومِ مُعاملہ کے اعلیٰ درجوں سے تعلق رکھتی ہے، اس بارے میں گفتگو کرنا درحقیقت معارِف کے دروازوں پر دستک دینا ہے لیکن ہم اس کی چند علامات کی طرف اشارہ کردیتے ہیں۔ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی وحدانیت کے متعلق لوگوں کے دو گروہ ہیں: (۱)وحدانیت کے قائل اور فَنَا فِی اللہ اور (۲)وحدانیت کے منکر۔
(1)...وحدانیت کے قائل اور فَنَافِی اللہ:
	یہ وہ لوگ ہیں جن کی نظر صرف اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی طرف ہوتی ہے۔ یہ مرتبہ تمہیں یقینی طور پر پہچان کروادے گا کہ وہی شاکر، وہی مَشْکُور(1)، وہی مُحِب اور وہی محبوب ہے۔ اس مرتبے پر فائز شخص کی نظر میں وُجود صرف ذاتِ باری تعالیٰ ہی کا ہے کیونکہ اس کے سوا سب کو فنا ہے یعنی وہی ازلی وہی ابدی ہے، اللہ عَزَّ وَجَلَّ کےغیر کے لئے یہ تصور کرنا کہ ”وہ بذاتِ خود قائم ہے اور اس  کی مثل کوئی موجود نہیں۔“ ایسا تصور محال بات کا تصور کرنا ہے کیونکہ حقیقی وُجود اسی شے کا ہوتا ہے جو ”قائم بنفسہٖ“ہو اور جو شے ”قائم بغیرہٖ“ ہو اس کا وجود بھی غیر کا محتاج ہوتا ہے۔
	کسی بھی شے کے ”قائم بغیرہٖ“ ہونے سے مراد یہ ہے کہ اس کا وجود غیر کا اعتبار کئے بغیر نہ پایا جائے یعنی اگر صرف اس شے کی ذات کا اعتبار کیا جائے اس کے علاوہ کسی شے کا اعتبار نہ کیا جائے تو خود اس کا وُجُود نہ رہے اور کسی بھی شے کے ”قائم بنفسہٖ“ ہونے سے یہ مراد ہے کہ اگر اس کے علاوہ ہرشے کو معدوم تصور کیا جائے تو بھی وہ باقی رہے یعنی وہ بذاتِ خود موجود ہو۔ ’’قائم بنفسہٖ‘‘ ہونے کے ساتھ ساتھ اگر کوئی شے ایسی ہو کہ اس کے وُجود سے غیر کا وجود قائم ہو تو وہ قیوم ہے اور قیوم ایک ہی ذات ہے دوسری کسی ذات کا قیوم ہونا ممکن نہیں۔
	اس ساری گفتگو سے معلوم ہوا کہ ذاتِ باری تعالیٰ کے سوا کسی کا وُجود حقیقی نہیں وہ خود زندہ، اوروں کا
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
…اللہ عَزَّ  وَجَلَّکامشکور(جس کاشکراداکیاجائے)ہوناتوظاہرہے جہاں تکاللہ عَزَّ  وَجَلَّکے شاکرہونے کی بات ہے تو اس سے مرادیہ ہے کہ وہ بندوں کواپنے شکرکی توفیق دیتااوران کے دلوں اورزبانوں پراپنی ثناالہام فرماتا ہے،اس اعتبارسے وہ شاکرہے۔(اتحاف السادة المتقین،۱۱/ ۱۱۰)