Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :4)
255 - 882
 اعضاء، قدرت، ارادے اور ہماری حرکات وسکنات کا سبب بننے والے تمام اُمُور اللہ عَزَّ وَجَلَّ ہی کی پیدا کردہ نعمتیں ہیں تو اسی کی نعمت سے نعمت کا شکر کیسے ادا کریں…؟ مثلاً اگر بادشاہ کوئی سُواری انعام میں دے، ہم اس کے ذریعے دوسری سواری حاصل کر کے اس پر سوار ہوں یا بادشاہ خود ہی دوسری سواری سے بھی نوازدے تو یہ دوسری سواری ہماری طرف سے پہلی کا شکریہ شمار نہیں کی جائے گی بلکہ یہ ایک اور نعمت ہے جو پہلی کی طرح شکریہ کی محتاج ہے۔ معلوم ہوا کہ رب تعالیٰ کی نعمت کا شکر اسی کی عطا کی گئی دوسری نعمت سے ہی ممکن ہے۔
	ان دونوں وجوہات سے معلوم ہوگیا کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی نعمتوں کا شکر ادا کرنا ناممکن ومحال ہے۔اس بات میں کوئی شک نہیں کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ غرض سے پاک ہے اور اسے کسی کی مدد کی حاجت نہیں اور اس کی نعمت کا شکر ادا کرنا بھی ممکن نہیں لیکن شریعت نے ہمیں شکر کا حکم دیا ہے تو اس معاملے میں شریعت کی پاسداری کی کیا صورت ہوسکتی ہے؟ اس حوالے سے یہ جاننا ضروری ہے کہ جب حضرت سیِّدُنا داؤد  اور حضرت سیِّدُنا عیسٰی عَلَیْہِمَا السَّلَام کے دل میں اسی طرح کا خیال پیدا ہوا تو آپ نے رب تعالیٰ کی بارگاہ میں عرض کی: ”مولیٰ! میں تیرا شکر کیسے ادا کروں؟ حالانکہ تیرا  شکر تیری ہی دی ہوئی دوسری نعمت سے ممکن ہے۔“ایک میں یوں ہے:”تیراشکرتوتیری ہی دی ہوئی دوسری نعمت ہے جومجھ پر ایک اور شکرلازم کردے گی۔“اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے ان کی طرف وحی فرمائی: ”(ہرچیز کا خالق میں ہوں)تمہارا اس بات کو جان لینا ہی تمہاری طرف سے میرا شکر ہے۔“ایک روایت میں یوں ہے:”تمہارا اس بات کو جان لینا اور اس پر راضی رہنا ہی شکر کے لئے کافی ہے کہ نعمت کا خالق میں ہوں۔“
وحدانیَّتِ باری تعالیٰ کے دوگروہ:
	اگر تم یہ سوال کرو کہ میں نے انبیائے کرام عَلَیْہِمُ السَّلَام کا سوال تو سمجھ لیا لیکن ان کی طرف کی گئی وحی سمجھ نہیں آئی کیونکہ یہ تو معلوم ہے کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کا شکر مُحال ہے لیکن اس بات کا علم ہونا ہی شکر ہے یہ بات سمجھ نہیں آئی کیونکہ اس بات کا علم ہونا بھی اس کی ایک نعمت ہے تو نعمت کیسے شکر بن سکتی ہے؟ اس ساری بحث کا حاصل یہ نکلے گا کہ جو شخص شکر نہ کرتا ہو وہ بھی شکرگزار کہلائے گا اور بادشاہ جسے ایک انعام سے نواز چکا ہو اس شخص کا دوسرا انعام  وصول کرنا پہلے کے لئے شکر کہلائے گا۔ عَقْل اس راز کو سمجھنے سے قاصر ہے،