Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :4)
253 - 882
سے خوف زدہ نہیں، ہم تو حاضر ہوئے ہیں کہ زبان سے آپ کا شکریہ ادا کریں اور چلے جائیں۔“
	علم، حال اور عمل میں سے عمل ہی شکر کے معانی کو اس کی مکمل حقیقت کے ساتھ گھیرےہوئے ہے۔لہٰذا
شکر کی پانچ تعریفات:
(1)...جس نے کہا کہ ”طاعت وفرمانبرداری کے ذریعے مُنِعم کی نعمت کا اعتراف کرنا شکر ہے۔“
	تویہ تعریف زبان ودل کی حالت کو مَدِّنظر رکھتے ہوئے کی گئی ہے۔
(2)...جس نے کہا کہ ”احسان کرنے والے کے احسان کا ذکر کرکے اس کی تعریف کرنا شکر ہے۔“
	تویہ تعریف صرف زبان کی طرف نظر کرتے ہوئے کی گئی ہے۔
(3)...ایک قول یہ ہے کہ ”مُنِعم کے فضل و انعام کو پیش نظر رکھتے ہوئے ہمیشہ اس کی تعظیم کرنا شکر کہلاتا ہے۔“
	اس  تعریف میں زبانی شکر کے علاوہ شکر کی اکثر صورتیں شامل ہیں۔
(4)...حضرت سیِّدُنا ابوصالح حَمْدُون بن احمد نِیْسابُوری رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں:”نعمت کا شکر یہ ہے کہ تو نعمت کو اپنی طرف منسوب کرنے کے بجائے مُنِعم کی طرف منسوب کرے۔“
	آپ کی اس تعریف سے معلوم ہوتا ہے کہ شکر کا تعلق صرف معرِفت (یعنی علم) کے ساتھ ہے۔
(5)...حضرت سیِّدُنا جنید بغدادی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْہَادِی فرماتے ہیں:”شکر یہ ہے کہ تو اپنے آپ کو نعمت کے قابل نہ سمجھے۔“
	آپ کی تعریف سے معلوم ہوتا ہے کہ دل کی ایک خاص کیفیت کا نام شکر ہے۔
	شکر کی تعریف میں بیان کئے گئے یہ تمام اَقوال ہرایک کی اپنی کیفیت وحالت کے مطابق ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ شکر کے بارے میں پوچھے گئے سُوالات کے متعلق ان کے جوابات الگ الگ ہوا کرتے تھے۔ کبھی تو ایک ہی شخص کے دو جواب ہوا کرتے کیونکہ کبھی وہ اپنے آپ پر طاری ہونے والی مخصوص حالت یعنی فُضُولیات سے بچنے والے شخص کی حالت کے مطابق کلام کرتے اور کبھی سائل کی حالت کے مطابق صرف اسی قدر کلام کرتے جتنی اسے حاجت ہوتی۔
	یہ تعریفات اور جو شرح ہم نے ذکر کی ہے اس سے ہرگز کوئی یہ نہ سمجھے کہ ہمارا مقصود ان پر طَعْن کرنا