Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :4)
252 - 882
	جب بھی کسی بندے سے اس کی طبیعت دریافت کی جائے تو اس کی تین حالتیں ہوتی ہیں: (۱)…وہ شکر کرتا ہے یا(۲)… شکوہ یا پھر (۳)…خاموش رہتا ہے۔ شکر طاعت و فرمانبرداری میں داخل ہے اور شِکْوَہ کسی نیک شخص کے متعلق ہو تو مکروہ فعل ہے اور اگر اس ذات کے متعلق کیا جائے جو بادشاہوں کا بادشاہ اور ہرشے کا مالک ہے اور وہ بھی بندے سے جو خود اس کی مخلوق ہے کسی چیز پر قادر نہیں تویہ اِنتہائی قَبِیْح ہے۔ یقیناً اگر انسان پیش آنے والی آزمائشوں و مصیبتوں پر صبر نہ کرسکے تو کمزوری اسے شکوہ کرنے پر مجبور کردیتی ہے ایسے وقت میں اپنی پریشانی اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی بارگاہ میں پیش کرنا ہی مناسب ہے کہ آزمائش میں مبتلا کرنے اور اسے دور کرنے پر و ہی قادر ہے۔ اپنے مالِکِ حقیقی کے سامنے جھکنے والا شخص بلند مرتبہ جبکہ اس کے غیر سے شکایت کرنا اپنی عزت خاک میں ملانا ہے کیونکہ اپنی ہی مثل انسان کے سامنے ذِلَّت کا اظہار انتہائی بُرا فعل ہے۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے: اِنَّ الَّذِیۡنَ تَعْبُدُوۡنَ مِنۡ دُوۡنِ اللہِ لَایَمْلِکُوۡنَ لَکُمْ رِزْقًا فَابْتَغُوۡا عِنۡدَ اللہِ الرِّزْقَ وَاعْبُدُوۡہُ وَاشْکُرُوۡا لَہٗ ؕ (پ۲۰، العنکبوت:۱۷)
ترجمۂ کنز الایمان: بےشک وہ جنہیں تم اللہ کے سوا پوجتے ہو تمہاری روزی کے کچھ مالک نہیں تو اللہ کے پاس رزق ڈھونڈو اور اس کی بندگی کرو اور اس کا احسان مانو۔
	اور ارشاد فرماتا ہے: اِنَّ الَّذِیۡنَ تَدْعُوۡنَ مِنۡ دُوۡنِ اللہِ عِبَادٌ اَمْثَالُکُمْ (پ۹، الاعراف:۱۹۴)
ترجمۂ کنز الایمان: بے شک وہ جن کو تم اللہ کے سوا پوجتے ہو تمہاری طرح بندے ہیں۔
	معلوم ہوا کہ زبان سے شکر ادا کرنا بھی شکر کی ایک قسم ہے۔
عادل حکمران کا شکریہ ادا کرنا:
	بیان کیا جاتا ہے کہ حضرت سیِّدُنا عُمَر بن عبدُالعزیز عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْعَزِیْز کی بارگاہ میں ایک قافلہ حاضر ہوا اور ایک نوجوان کچھ کہنے کے لئے کھڑا ہوا تو آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے فرمایا:”کوئی بڑا کلام کرے۔“ وہ نوجوان کہنے لگا:امیرالمؤمنین! اگر معاملہ عُمْر کا ہے تو مسلمانوں کا امیر آپ سے بڑا کوئی ہونا چاہئے تھا۔ آپ نے فرمایا: ”کہو کیا کہنا ہے۔“ اس نے عرض کی:”یہاں ہمیں نہ کسی چیز کی رغبت لائی ہے اور نہ ہی آپ کا خوف کیونکہ آپ کے فضل کے سبب ہمیں کسی چیز کی خواہش باقی نہ رہی اور آپ کے عدل کے سبب ہم آپ