مختلف اعضاء کا شکر:
اس عمل کا تعلق دل، زبان اور اعضاء تینوں کے ساتھ ہے۔ دل کے ساتھ اس طرح ہے کہ بھلائی کا ارادہ کرے اور اسے ہرایک پر ظاہر نہ کرے، زبان کے ساتھ اس کا تعلق اس طرح ہے کہ شکر کا اظہار کرتے ہوئے اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی ایسی حمد کرے جو اس کی خوشی پر دلالت کرے اور اعضاء کے ساتھ اس طرح کہ اس نعمت کو اللہ عَزَّوَجَلَّ کی طاعت وفرمانبرداری کے لئے استعمال میں لائے اور اس کی نافرمانی والے کاموں میں اس سے مدد نہ لے۔ اس کے مطابق آنکھوں کا شکر یہ ہے کہ مسلمان کا جو بھی عَیْب دیکھے اسے چھپائے، کانوں کا شکر یہ ہے کہ کسی کا عیب سن لے تو اسے چھپائے۔ یہ طریقہ اعضاء کے ذریعے اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی نعمتوں کا شکر ادا کرنے کی تمام صورتوں میں جاری ہوتا ہے۔ زبان سے شکر ادا کرنے سےاللہ عَزَّ وَجَلَّ کی رضا پر راضی رہنے کا اظہار ہوتا ہے جس کا بندے کو حکم دیا گیا ہے۔
اپنی گفتگو میں بھی شکر کا اظہار کرو!
سرکارِ مدینہ، قرارِ قلب وسینہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے کسی شخص سے پوچھا:”تم نے کس حال میں صبح کی؟“ اس نے عرض کی:”اچھی حالت میں۔“ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے پھر یہی سوال کیا حتّٰی کہ جب تیسری مرتبہ پوچھا تو اس نے عرض کی:”میں نے اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی حمد اور اس کا شکر بجالاتے ہوئے اچھی حالت میں صبح کی۔“اس پر حُضورِاَکرم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا:”یہی کلمات میں تم سے سننا چاہتا تھا۔“(1)
خیریت پوچھنے میں شکرکا اظہار:
اَسلاف کرام رَحِمَہُمُ اللہُ السَّلَام جب باہم ملاقات فرماتے تو ایک دوسرے کی خیریت دریافت کیا کرتے تھے اور اس سے ان کا مقصد سامنے والے سے شکر کا اظہار کروانا ہوا کرتا تھا تاکہ شکر کرنے والا اور اس کا اظہار کروانے والا دونوں فرمانبردار بن جائیں۔ اس اظہارِ شوق سے ان کا مقصد ہرگز ریاکاری و دکھاوا نہیں ہوتا تھا۔
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
… الزھدلابن مبارک،باب ذکررحمة اللہ،ص۳۲۸،حدیث:۹۳۷