حقیقی شکر کیا ہے؟
٭…حضرت سیِّدُنا شیخ ابوبکر شِبْلی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَ لِی فرماتے ہیں: شکر یہ ہے کہ نظر نعمت عطا کرنے والے پر ہو نہ کہ نعمت پر۔
٭…حضرت سیِّدُنا ابواسحاق ابراہیم بن احمد خَوَّاص عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْجَوَاد فرماتے ہیں: عام لوگ کھانے، پینے اور پہننے (یعنی ظاہری اشیاء) پر شکر کرتے ہیں جبکہ خاص لوگ دل پر وارد ہونے والے معانی پر شکر کرتے ہیں۔
وہ شخص اس درجہ کو ہرگز نہیں پاسکتا جس کے پیْشِ نظر پیٹ، شرم گاہ اور دیگر رنگ وآواز والی حِسِّی اشیاء کی لذات ہوں اور وہ قلبی لذات سے محروم ہو کیونکہ اچھے اخلاق سے مُزَیَّن دل اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے ذکر، اس کی معرِفت اور اس سے ملاقات کے شوق میں ہی لذت پاتا ہے اور ان کے علاوہ سے دل اُسی وقت لذت محسوس کرتا ہے جب بُری عادات کے سبب خراب ہو چکا ہو۔مثلاً بعض لوگوں کو مٹی کھانے سے لذت ملتی ہے اور بیمار میٹھی اشیاء کو بدمزہ اور کڑوی اشیاء کو ذائقہ دار سمجھتے ہیں۔ اسی بارے میں شاعر کہتا ہے:
وَمَنْ یَّـکُ ذَا فَمٍ مُرٍّ مَرِیْضٌ یَجِدُ مُرًّا بِہِ الْمَآءَ الزُّلَالَا
ترجمہ: جو مریض کی طرح کڑوے منہ والا ہو وہ میٹھے پانی کو بھی کڑوا پاتا ہے۔
لہذا نعمَتِ الٰہی پر خوش ہونے کے لئے تیسرے درجے کا پایا جانا شرط ہے۔ البتہ اگر اونٹ نہ ملے تو بکری ہی کافی ہے یعنی اگر تیسرا درجہ حاصل نہ ہوسکے تو دوسرے درجے کا پایا جانا ضروری ہے۔ جہاں تک پہلے درجے کا تعلق ہے وہ تو کسی حساب میں ہی نہیں اور گھوڑے کے حُصول کے لئے بادشاہ کی خدمت کرنے والے اور بادشاہ کی خدمت کے لئے گھوڑا حاصل کرنے والے کے درجوں میں جس طرح فرق ہے اسی طرح نعمت حاصل کرنے کے لئے اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی طرف متوجہ ہونے والے اور ربّ تعالیٰ کا قرب حاصل کرنے کے لئے نعمت طلب کرنے والے کے درمیان فرق ہے۔
شکر کے لئے بندے کا عمل:
٭…عمل: اس سے مراد یہ ہے کہ مُنِعم کی پہچان ہونے پر حاصل ہونے والی خوشی کے مطابق عمل کرنا۔