Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :4)
25 - 882
 الْمَرْگ ہوتا ہے کہ اس کی روح تقویت پہنچانے والے اعضاء سے الگ ہوکرکمزوراورتنہارہ گئی جوکسی بھی وقت نکل سکتی ہے۔ ایسا ہی حال اس شخص کا ہوتاہے جس کے پاس  صرف ایمان ہواور وہ اعمال سے محروم ہو، قریب ہے کہ مَلَکُ الْمَوْتعَلَیْہِ السَّلَام کی آمدوظہورکے وقت ایمان کو حَرَکت دینے والی تند وتیز ہواؤں کے تھپیڑوں سے اس کے ایمان کا دَرَخْت جڑ سے اکھڑ جا ئے۔ پس ہر وہ ایمان جس کی جڑیقین میں مضبوط وقائم نہ ہو اور اعمال میں اس کی شاخیں پھیلی ہوئی نہ ہوں تو وہ ملک الموت عَلَیْہِ السَّلَام کی آمد کے وقت ہوش اُڑادینے والی ہولناکیوں کے سامنے نہیں ٹھہر پاتا اور اس پر بُر ے خاتمے کا خوف ہے۔ ہاں وہ ایمان جسے ہمیشہ عبادات کے پانی سے سیراب کیا جاتا ہے وہ مضبوط اور راسخ ہوتا ہے۔
نیکوکاروگناہ گار اور صنوبر وکدو:
	کوئی گناہ گار کسی نیکوکار سے اگر یہ کہے کہ”اِنِّی مُؤْمِنٌ کَمَا اَنَّــکَ مُؤْمِنٌ یعنی بے شک میں بھی تمہا ری طرح مومن ہوں۔“ تویہ  ایسا ہی ہے جیسے کوئی کدو کاپیڑکسی صنوبر کے درخت سے کہے کہ ”اَنَا شَجَرَةٌ وَّاَنۡتَ شَجَرَةٌ یعنی میں بھی درخت ہو ں اور تو بھی درخت ہے۔“ اور صنوبر کے درخت کاجواب کتنا اچھا ہوگااگروہ یہ کہےکہ”محض نام میں شراکت کے سبب تم جس دھوکے کا شکار ہوعنقریب تمہیں اس کاعلم ہوجائے گا جب خزا ں کی ہوائیں چلیں گی تو اس وقت تمہاری جڑیں اکھڑ جا ئیں گی اور پتے بکھرجا ئیں گے اور تمہیں جو نا م میں شراکت کا دھوکا لگا ہے وہ تم پر آشکار ہوجائے گا۔ تم  نے صرف نام کو دیکھا مگردرخت کو قائم رکھنے والے اَسباب سے غافل رہے۔“ 
وَسَوْفَ تَرٰی اِذَا انْجَلَی الْغُبَارُ	اَ فَرَسٌ تَحْتَکَ اَمْ حِمَارُ
	ترجمہ:عنقریب جب غبار چھٹے گا تو دیکھ لوگے کہ تمہارے نیچے  گھوڑا ہے یا گدھا۔
	بیان کردہ معاملہ بوقتِ خاتمہ (یعنی موت کے وقت) ظاہر ہو گا۔ یہی وجہ ہے کہ موت کی علامتوں اورلرزہ خیز آثار کے خوف سے عارفین کی رگِ جا ن کٹ جاتی ہے کیونکہ اس وقت بہت ہی کم لو گ ثابت قدم رہ پاتے ہیں۔ الغرض گناہ گار انسان جب اپنے گناہوں کی وجہ سے دوزخ میں ہمیشہ رہنے سے نہیں ڈرتا جیساکہ نقصان دہ خواہِشات میں مُنْہَمِک تندُرُست انسان جب اپنی صحت کی وجہ سے موت سے نہیں ڈرتاکیونکہ موت غالب طور پر اچانک نہیں آتی تو اس کے متعلق یہ کہا جائے گا:”تندرست انسان بیماری سے ڈرتاہے پھر