٭…تیسری صورت: یہ ہے کہ اس کے ملنے پر اس لئے خوش ہو کہ بادشاہ کی خدمت کے لئے اس پر سوار ہوگا اور بادشاہ کا قرب حاصل کرنے اور اس کی خدمت کے لئے سفر کی مَشَقَّت برداشت کرے گا کہ اس خدمت کے سبب بادشاہ کی نظروں میں ترقی پاتے ہوئے منصَبِ وَزارت حاصل کرلے۔ کیونکہ اس کا مقصود بادشاہ کے دل میں صرف اتنی ہی جگہ بنانا نہیں کہ بادشاہ اسے گھوڑے سے نوازے بلکہ وہ تو اس بات کا طلب گار ہے کہ کسی کو بھی انعام دینے کے لئے بادشاہ کا قاصد یہ خود ہو اور اس بات سے اس کا مقصود وزارت حاصل کرنا بھی نہیں بلکہ یہ تو بادشاہ کا قرب اور اس کی نظروں میں رہنا چاہتا ہے حتّٰی کہ اگر اسے وزارت اور بادشاہ کے قُرب میں سے کوئی ایک چیز چننے کو کہا جائے تو یہ بادشاہ کا قرب اختیار کرے۔
یہ تین صورتیں درحقیقَت حال کے تین دَرَجات ہیں۔ پہلے درجے میں شکر موجود ہی نہیں کیونکہ نعمت ملنے والے کی نظر صرف گھوڑے پر تھی اسے اس بات کی خوشی تھی کہ گھوڑا ملا ہے دینے والے سے کوئی غرض نہیں۔ یہ حال ہر اس شخص کا ہے جو کسی نعمت کے ملنے پر صرف اس لئے خوش ہوتا ہے کہ یہ لذیذ ہے اور غرض کے مُوافِق ہے، اس میں کسی طرح بھی شکر کا معنی نہیں پایا جاتا۔ دوسرے درجے میں خوشی کا تعلق مُنِعم(یعنی نعمت عطاکرنے والے) سے ہے اس اعتبار سے اس میں شکر بھی داخل ہے لیکن یہ تعلق مُنِعم کی ذات کی وجہ سے نہیں بلکہ اس کی شفقت و عنایت کی وجہ سے ہے جو کہ آئندہ بھی اسے انعام لینے پر اُبھارتا ہے۔ یہ حال اُن صالحین کا ہے جو اس کے عذاب سے ڈرتے ہوئے اور ثواب کی امید رکھتے ہوئے اس کی عبادت وشکر بجالاتے ہیں۔ شکر بھی کامل ہو اور خوشی کا اظہار بھی ہو تو یہ تیسرا درجہ ہے کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی نعمت پر بندہ اس وجہ سے خوش ہو کہ اس کے ذریعے مجھے اللہ عَزَّ وَجَلَّ کا قرب پانے، اس کے جوار ِرحمت میں جگہ حاصل کرنے اور ہمیشہ ہمیشہ اس کی طرف متوجہ رہنے میں مدد ملے گی۔ یہ درجہ سب سے بلندہے، اس کی علامت یہ ہے کہ بندہ دنیا میں صرف انہی چیزوں سے خوش ہو جو آخرت کے لئے نفع بخش اور مددگار ہوں اور ہر اس چیز سے غمزدہ ہو جو اللہ عَزَّوَجَلَّ کے ذکر سے غافل کرے اور اس کے راستے سے روکے کیونکہ وہ نعمت سے لذت کا ارادہ نہیں کرتا جیساکہ (تیسری صورت میں) گھوڑا پانے والے شخص کا مقصود گھوڑے کا فَرْبَہ و عمدہ نسل ہونا نہیں بلکہ اس کے ذریعے بادشاہ کی صحبت میں حاضر ہونا تھا تاکہ ہمیشہ بادشاہ کے قریب اور اس کی نظروں میں رہے۔