صورت ہے؟اللہ عَزَّوَجَلَّ نے فرمایا:”جان لو! ہرشے کا خالق میں ہوں، اس بات کا یقین ہی شکر ہے۔“
بس اے بندے! تیرا شکر ادا کرنا بھی اس بات کو جان لینے میں ہے کہ ہر چیز کا مالک اللہ عَزَّ وَجَلَّ ہے، اس بارے میں اگر تو نے ذرا بھی شک کیا تو نہ تو نے نعمت کو پہچانا اور نہ ہی مُنِعم(یعنی نعمت عطاکرنے والے) کو اور اس حالت میں تو مُنِعم کے علاوہ سے بھی خوشی و رضا کا اظہار کرتا ہے۔ تیری معرفت ناقص ہونے کی وجہ سے اس حال میں تیرا خوش ہونا اور عمل کرنا سب ناقص ہے۔
شکر کے لئے بندے کی حالت:
٭…حال: اس سے مراد وہ حالت ہے جو معرِفت کے بعد حاصل ہو یعنی عاجزی و اِنکساری کے ذریعے مُنِعم کے لئے خوشی کا اظہار کرنا اور یہ فعل فی نفسہٖ مَعْرِفَت کی طرح شکر ہے لیکن معرفت کا حُصول شرط کے پائے جانے پر (ربّ تعالیٰ کا) شکر ہے اور اس کی شرط یہ ہے کہ انسان کی خوشی مُنِعم کی ذات سے وابستہ ہو نہ کہ نعمت و انعام سے۔ تمہارے لئے اس کا سمجھنا شاید تھوڑا مشکل ہو لہٰذا ہم مثال کے ذریعے واضح کرتے ہیں۔
انعام ملنے پر خوشی کی تین صورتیں:
ایک بادشاہ جس نے سفر کا ارادہ کیا ہو وہ کسی شخص کو گھوڑا انعام میں دے تو اس شخص کی خوشی کی تین صورتیں ہوں گی:
٭…پہلی صورت: یہ ہے کہ وہ شخص گھوڑا ملنے پر اس لئے خوش ہو کہ گھوڑا نفع بخش ہے اور اس پر سواری کی جاسکتی ہے جو کہ سفر کی حاجت ہے اور عمدہ نسل ہے۔ اس خوشی میں بادشا ہ کی ذات کوکوئی دخل نہیں اس کا مقصود صرف گھوڑا ہے کہ اگر وہ اسے کسی صحرا میں پاتا اور حاصل کرلیتا تو اس وقت بھی اسے ایسی ہی خوشی ہوتی۔
٭…دوسری صورت: یہ ہے کہ وہ اس پر محض گھوڑا ہونے کی وجہ سے خوش نہ ہو بلکہ اس کی خوشی کا پہلو یہ ہو کہ اس کے ذریعے بادشاہ نے اس پر شفقت و عنایت کی ہے حتّٰی کہ اسے گھوڑے سے اس قدر عدمِ دلچسپی ہو یا بادشاہ کی نظروں میں مقام پانے کی خواہش میں اس کی نظر میں گھوڑا اس قدر بے وَقْعَت ہو کہ اگر یہ اسے کسی صحرا میں ملتا یا بادشاہ کے علاوہ کوئی دیتا تو اسے بالکل خوشی نہ ہوتی۔