دینے میں اپنا ہی بھلا ہے:
جو شخص ذاتِ باری تعالیٰ اور اس کے افعال سے واقف ہے وہ اس بات کا یقین رکھتا ہے کہ سورج، چاند، تارے اسی کے اختیار میں ہیں جیسے کاتب کے ہاتھ میں قلم، جن جانداروں کو اختیار دیا گیا ہے وہ بھی درحقیقت تحْتِ قدرتِ الٰہی ہیں کیونکہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ ہی نے ان کے لئے (اچھے بُرے) اَفعال کے دَواعی مُقَرَّر کئے ہیں جسے چاہیں اختیار کریں۔ ان کا معاملہ اُس مجبور وزیر کی طرح ہے جس کے لئے بادشاہ کی مخالفت کا کوئی راستہ نہیں ہوتا، اگر اسے آزاد چھوڑ دیا جائے اور پوچھ گچھ نہ کی جائے تو وہ تجھے ایک ذرّہ بھی نہ دے۔ لہٰذا جو کچھ تجھے اللہ عَزَّوَجَلَّ کی نعمتوں میں سے کسی کے ذریعے ملا تو وہ اس پر لازم کیا گیا تھا کیونکہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے اس کے لئے ارادہ لکھ دیا تھا، اسباب جمع کر دیئےتھے اور اس کے دل میں یہ بات ڈال دی تھی کہ اُس کے لئے دنیا اور آخرت کی بھلائی اسی میں ہے کہ جو کچھ تجھے دینا ہے دے دے، اس کے بغیر دُنیوی و اُخروی مقصد کا حُصول ممکن نہیں۔ پھر جب اللہ عَزَّ وَجَلَّ اس کے دل میں یہ بات ڈال دیتا ہے تو اس کے لئے اِس سے منہ موڑنے کا کوئی راستہ نہیں ہوتا اور اس وقت وہ اپنی وجہ سے تجھے دیتا ہے نہ کہ تیری حاجت کو دیکھتے ہوئے اور اگر دینے میں اس کی غَرَض نہ ہوتی اور وہ یہ بات نہ جانتا کہ تجھے نَفْع پہنچانے میں اس کا نفع ہے تو نہ وہ تجھے دیتا اور نہ ہی تجھے نفع پہنچاتا۔ معلوم ہوا کہ وہ تجھے نفع پہنچاکر اپنے لئے نفع طلب کرتا ہے۔ وہ تجھے نوازنے والا نہیں بلکہ دوسری نعمت کے حُصول میں تجھے وسیلہ بناتا ہے جس کی امید لگائے بیٹھا ہے۔ جس ذات نے تجھ پر انعام کیا اسی نے اس شخص کو تجھ پر مہربان کیا اور اس کے دل میں وہ اعتقاد و ارادہ پیدا کردیا جس کے سبب وہ تجھےدینے پر مجبور ہوگیا۔
اگر تو نے ان تمام اُمور کو یوں جان لیا تو ربّ تعالیٰ کو اور اس کے افعال کو پہچان لے گا اور اس کی وَحدانیت تجھ پر واضح ہوجائے گی اور تو اس کے شکر پر قدرت حاصل کرلے گا بلکہ اس معرِفت کے بعد ہی تو شکرگزار بندہ بن جائے گا۔
اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے شکر کی کیا صورت ہے؟
حضرت سیِّدُنا موسٰی کلیمُ اللہ عَلٰی نَبِیِّنَاوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے اپنی دعا میں اللہ عَزَّ وَجَلَّ سے عرض کی:مولی! تو نے آدم عَلَیْہِ السَّلَام کو اپنے دستِ قدرت سے پیدا فرمایا، فلاں فلاں کام تو نے ہی کیا تو تیرے شکر کی کیا