Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :4)
246 - 882
نیکیاں ہیں اور جس نے ”اَلْحَمْدُ لِلّٰہ“ کہا اس کے لئےتیسنیکیاں ہیں۔(1)
(2)...سب سے افضل ذکر ”لَا اِلٰہَ اِلَّا اللہ“ ہے اور سب سے افضل دعا ”اَلْحَمْدُلِلّٰہ“ ہے۔(2)
(3)...کوئی ذکر (ثواب کو) اتنا نہیں بڑھاتا جتنا کہ ”اَلْحَمْدُلِلّٰہ“ کہنا بڑھاتا ہے۔
لفظوں کے تلفظ پرہی نہیں معنیٰ پربھی غورکرو:
	تمہیں  یہ گمان نہیں کرنا چاہئے کہ فقط زبان کوحرکت دے کر یہ کلمات پڑھنا کافی ہے،دل میں ان کے معانی کاحصول ضروری نہیں(بلکہ کوشش کروکہ دل میں ان کے معانی کی معرفت بھی ہوکہ)”سُبْحَانَ اللہ“اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی پاکی پر دلالت کرتا ہے اور ”لَا اِلٰہَ اِلَّا اللہ“ اس کی وحدانیت پر اور ”اَلْحَمْدُلِلّٰہ“ اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ یہ نعمت اسی واحدِ حق تعالیٰ کی طرف سے ہے۔ نیکیاں درحقیقت ان معارِف کے مقابلے میں ہیں جو ایمان اور یقین سے ہیں۔
	جان لیجئے کہ مذکورہ تمام معارِف اَفعال میں شرکت سے منع کرتے ہیں۔ مثلاً کسی شخص کو بادشاہ نے انعام سے نوازا تو اگر وہ شخص اس نعمت کے ملنے میں بادشاہ کے ساتھ اس کے وزیر یا وکیل کا بھی دَخَل جانے تو یہ ہے نعمت میں کسی کو شریک کرنا۔ اس صورت میں وہ شخص صرف بادشاہ کی طرف سے نعمت شمار نہیں کرتا بلکہ بادشاہ کے علاوہ دوسرے کی طرف سے بھی شمار کرتا ہے، اس کی خوشی بھی دونوں پر تقسیم ہوگی اور ایسا شخص بادشاہ کو بادشاہت میں یکتا تصوُّر نہیں کرتا۔ البتہ بادشاہ کی یکتائی اور کمالِ شکر میں اس وقت کوئی کمی نہ ہوگی  جبکہ وہ نعمت ملنے کی وجہ صرف اور صرف اس واقعہ کو تصور کرے جس دوران بادشاہ نے دستخط کئے کیونکہ کاغذ و قلم بادشاہ کے تابع ہیں لہٰذا نہ تو وہ ان دونوں کی وجہ سے خوش ہوگا اور نہ ہی ان کا شکریہ ادا کرے گا۔ یونہی وکیل اور وزیر بھی نعمت پہنچانے میں بادشاہ کے حکم کے محتاج ہیں، اگر مُعاملہ ان کے سپرد کیا جائے اور بادشاہ کی طرف سے حکم نہ ہو تو انجام کے خوف سے یہ کبھی کوئی چیز نہ دیں۔ جب یہ بات جان لی گئی تو ظاہر ہوگیا کہ وزیر بھی کاغذ وقلم کی طرح محض بادشاہ کا تابع ہے اور نعمت کی نسبت خالصتاً بادشاہ کی طرف ہے کوئی اس کا شریک نہیں۔
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
… قوت القلوب،الفصل الثانی والثلاثون:شرح مقامات الیقین،۱/ ۳۴۳
2… سنن الترمذی،کتاب الدعوات،باب ماجاء ان دعوة المسلم مستجابة،۵/ ۲۴۸،حدیث:۳۳۹۴