تعلق دل، اعضاء اور زبان تینوں کے ساتھ ہے۔
شُکر کی حقیقت کا مکمل اِحاطہ کرنے کے لئے ان تینوں کی تفصیل بیان کرنا ضروری ہے کیونکہ شکر کی جتنی بھی تعریفات کی گئیں وہ اس کے معانی کا پوری طرح احاطہ کرنے کے لئے ناکافی ہیں۔
شکر کے لئے تین اُمور کا ”علم“ ضروری ہے:
٭…علم: اس سے مراد تین اُمور پائے جانے کا یقین حاصل ہونا ہے: (۱)…نفْسِ نعمت(۲)…وہ وجہ و سبب جس کے ذریعے بندہ نعمت کا مستحق ہو اور(۳)…مُنِعم کی ذات کا اور اس میں ان صِفات کا پایا جانا ضروری ہے جن کے ذریعے وہ انعام دینے کا اہل ہو اور اس کی طرف سے انعام صادر ہو۔
پس غیرُاللہ کے حق میں یہ علم(یعنی یقین) اسی وقت حاصل ہوگا جبکہ یہ تینوں اُمور پائے جائیں۔ بہرحال اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے حق میں یہ یقین رکھنا چاہئے کہ وہی حقیقی مُنِعم ہے، تمام نعمتیں و ہی عطا فرماتا ہے اور تمام واسطے اسی کے بنائے ہوئے ہیں۔ یہ یقین توحید وتَقْدِیْس سے بڑھ کر ہے کیونکہ توحید وتقدیس اس میں داخل ہیں۔
معارِفِ ایمان کے دَرَجات:
معارفِ ایمان میں پہلا درجہ تقدیس باری تعالیٰ کا ہے۔ پھر جب اس ذات کے مقدس ہونے کی معرِفت حاصل ہوجائے تو یہ معرفت بھی حاصل ہوجاتی ہے کہ وہ مقدس ذات یکتا ہے اور پاکی میں کوئی اس کا ہمسر نہیں، یہی عقیدۂ توحید ہے۔ اس کے بعد یہ معرِفت حاصل ہوتی ہے کہ دنیا میں جو کچھ موجود ہے اسی کی عطا ہے، ہر شے اسی کی نعمت ہے، یہ مَعْرِفَت کا تیسرا دَرَجہ ہے کیونکہ اس میں تقدیس و توحید کی معرفت کے ساتھ ساتھ باری تعالیٰ کے کمالِ قدرت اور اپنے اَفعال میں یکتا ہونے کا بھی علم ہوجاتا ہے۔
درج ذیل اَحادیْثِ مُبارَکہ میں اسی چیزکوبیان کیاگیاہے۔ چنانچہ رسولِ کریم، رَءُوْفٌ رَّحِیْم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکافرمان ہے:
توحید وتقدیس کے متعلق تین فرامین مصطفٰے:
(1)...جس نے ”سُبْحَانَ اللہ“ کہا اس کے لئے10نیکیاں ہیں، جس نے ”لَا اِلٰہَ اِلَّا اللہ“ کہا اس کے لئےبیس