(4(…اَلْحَمْدُ رِدَآءُ الرَّحْمٰن یعنی حمد رحمٰن عَزَّ وَجَلَّ کی چادر ہے۔(1)
اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے حضرت سیِّدُنا ایوب عَلٰی نَبِیِّنَاوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی طرف وحی فرمائی کہ ”میں اپنے پیاروں کے عمل کا بدلہ یہ دیتا ہوں کہ شکر کے سبب ان سے راضی ہوں۔“ یونہی صبر کرنے والوں کے متعلق اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے آپ عَلَیْہِ السَّلَام ہی کی طرف وحی فرمائی کہ’’ان کا گھر اسلام ہے جب وہ اس میں داخل ہوجاتے ہیں تو میں انہیں بہتر کلام شکر کی تلقین کرتا ہوں اور جو شکر کرتا ہے میں اسے مزید توفیق عطا فرماتا ہوں اور ان کی طرف خاص نظر رحمت فرماتا ہوں۔‘‘
(5)...جب زمینی خزانوں کے متعلق حکم نازل ہوا تو امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عُمَر فارُوقِ اعظم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ نے عرض کی:”ہم کونسا مال ذخیرہ کریں؟“ حُضور سیِّد ِعالَم، محبوبِ ربِّ اَکرم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا:”تمہیں چاہئے کہ زبانیں ذکر سے اور دل شُکر سےتر رکھو۔“(2)
حُضورِاَکرم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے جمْعِ مال کے بجائے دل کو شکرگزار بنانے کا حکم ارشاد فرمایا۔
حضرت سیِّدُناابن مسعودرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ نے فرمایا:”اَلشُّکْرُ نِصْفُ الْاِیْمَانیعنی شکر نصف ایمان ہے۔“(3)
دوسری فصل: شکر کی تعریف اور حقیقت
جان لیجئے! شکر نیک لوگوں کے مَراتِب میں سے ایک مرتبہ ہے اور دین کے دیگر مراتب ومَقامات کی طرح شکر بھی علم، حال اور عمل پر مشتمل ہے۔ علم اَصْل ہے اس کے ذریعے حال وجود میں آتا ہے اور حال سے عمل وُجود پاتا ہے۔
علم، حال اور عمل:
علم سے مراد مُنِعم یعنی نعمت عطا کرنے والے کی نعمت کو پہچاننا ہے، حال سے مراد وہ خوشی ہے جو نعمت ملنے پر حاصل ہو اور عمل سے مراد اس پر ثابت قَدَم رہناہے جو مُنِعم کا مقصود و محبوب ہے اور اس عمل کا
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
… تفسیر ابن ابی حاتم،سورة الفاتحة،تحت الآية:۱، ۱/۲۶،حدیث:۱۱، مکتبة نزار مصطفٰی البازمكة المكرمة ۱۴۱۷ھ
2… شعب الایمان ، باب فی محبة اللہ، فصل فی ادامة ذکر اللہ ،۱/ ۴۱۹، حدیث : ۵۹۰ ،مختصرًا
3… موسوعة ابن ابی الدنیا،الشکر للّٰہ ،۱/ ۴۸۴، حدیث :۵۷ ،فیہ:قول الشعبی
قوت القلوب،الفصل الثانی والثلاثون:شرح مقامات الیقین،شرح مقام الشکرووصف الشاکرین،۱/ ۳۴۰