Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :4)
242 - 882
وَاٰخِرُ دَعْوٰىہُمْ اَنِ الْحَمْدُ لِلہِ رَبِّ الْعٰلَمِیۡنَ ﴿٪۱۰﴾ (پ۱۱، یونس:۱۰)
ترجمۂ کنز الایمان: اور ان کی دعا کا خاتمہ یہ ہے کہ سب خوبیوں سراہا(خوبیوں والا)اللہ جو رب ہے سارے جہان کا۔
شکر کے متعلق پانچ فرامین مصطفٰے:
(1)...کھانے والا شکرگزار، صبر کرنے والے روزہ دار کی طرح ہے۔(1)
(2)...ایک مرتبہ حضرت سیِّدُنا عَطاء بن ابورَباح رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ اُمّ المؤمنین حضرت سیِّدَتُنا عائشہ صدیقہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا کی بارگاہ میں حاضر ہوئے اور عرض کی:ہمیں رحمتِ عالَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی وہ بات بتائیے جو آپ کو سب سے زیادہ پسند ہو۔ حضرت سیِّدَتُنا عائشہ صدیقہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا کی آنکھوں سے آنسو چَھلک پڑے اور فرمایا:حُضور اَکرم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم میں کوئی ایسی بات ہی نہیں جو پسندیدہ نہ ہو، ایک رات میرے پاس میرے بستر پرتشریف لائے اور میرے کمبل میں داخل ہوگئے حتّٰی کہ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا جسْمِ اقدس میرے جسم سےمل گیا، پھر فرمانے لگے: ”اے ابوبکر کی بیٹی!میں اپنے رب عَزَّ  وَجَلَّ کی عبادت کرناچاہتا ہوں۔“ میں نے عرض کی:مجھے آپ کا قُرب مَحبوب ہے لیکن میری پسند آپ کی خواہش پر قربان، میں نے اجازت دے دی۔آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم اٹھے اور مَشکیزے کی طرف تشریف لے گئے، تھوڑے سے پانی سے وضو فرمایا اور نماز میں مشغول ہوگئے پھر آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی مبارک آنکھوں سے آنسو جاری ہوگئے حتّٰی کہ سینَۂ اقدس تک آپہنچے، آپ نے رکوع فرمایا روتے رہے، سجدہ فرمایا اس میں بھی روتے رہے حتّٰی کہ سجدے سے سر اٹھانے کے بعد بھی آنسو نہ تھمے، اتنے میں حضرت بلال رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ حاضر ہوگئےاور  انہوں نے نماز کے لئے پکارا تو میں نے عرض کی: ”یارسولَ اللہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم! کون سی چیز آپ کو رُلارہی ہے حالانکہ آپ کے سبب اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے آپ کے اگلوں اور پچھلوں کے گناہ بخش دیئے۔“آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا:کیا میں اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کا شکرگزار بندہ نہ بنوں! اور ایسا کیوں نہ کروں جبکہ میرے رب عَزَّ  وَجَلَّ نے مجھ پر یہ آیتِ مُبارَکہ نازل فرمادی ہے:
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
… سنن الترمذی، کتاب صفة القیامة ، باب۴۳،۴/ ۲۱۹،حدیث : ۲۴۹۴