اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے بندوں کے شکر پر ہی نعمت کی زیادتی کا ذکر فرمایا اپنی چاہت پر موقوف نہ رکھا۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
(7)... لَئِنۡ شَکَرْتُمْ لَاَزِیۡدَنَّکُمْ (پ۱۳، ابراھیم:۷)
ترجمۂ کنز الایمان: اگر احسان مانوگے تو میں تمہیں اور دونگا۔
جبکہ دیگراشیاء مثلاً دولت، دعا کی قبولیت، رزق، مغفرت اور توبہ کو اپنی چاہت پر موقوف رکھا۔ چنانچہ ان کے متعلق اللہ عَزَّ وَجَلَّارشاد فرماتا ہے: فَسَوْفَ یُغْنِیۡکُمُ اللہُ مِنۡ فَضْلِہٖۤ اِنۡ شَآءَ ؕ (پ۱۰، التوبة:۲۸)
ترجمۂ کنز الایمان: تو عنقریب اللہتمہیں دولت مند کردے گا اپنے فضل سے اگر چاہے۔
فَیَکْشِفُ مَا تَدْعُوۡنَ اِلَیۡہِ اِنْ شَآءَ (پ۷،الانعام:۴۱)
ترجمۂ کنز الایمان: تو وہ اگر چاہے جس پر اسے پکارتے ہو اسے اٹھالے۔
اِنَّ اللہَ یَرْزُقُ مَنۡ یَّشَآءُ بِغَیۡرِ حِسَابٍ﴿۳۷﴾ (پ۳، اٰل عمرٰن:۳۷)
ترجمۂ کنز الایمان: بے شک اللہ جسے چاہے بےگنتی دے۔
وَیَغْفِرُ مَا دُوۡنَ ذٰلِکَ لِمَنۡ یَّشَآءُ ۚ (پ۵، النسآء:۴۸)
ترجمۂ کنز الایمان: اور کفر سے نیچے جو کچھ ہے جسے چاہے معاف فرمادیتا ہے۔
وَیَتُوۡبُ اللہُ عَلٰی مَنۡ یَّشَآءُ ؕ (پ۱۰، التوبة:۱۵)
ترجمۂ کنز الایمان: اور اللہ جس کی چاہے توبہ قبول فرمائے۔
(8)...شُکر رَبُوبِیَّت کے اخلاق میں سے ہے۔اللہ عَزَّ وَجَلَّ ارشاد فرماتا ہے:
وَ اللہُ شَکُوۡرٌ حَلِیۡمٌ ﴿ۙ۱۷﴾ (پ۲۸، التغابن:۱۷)
ترجمۂ کنز الایمان: اور اللہ قدر فرمانے والا حلم والا ہے۔
(9)...اہل جنت کا سب سے پہلا کلام کلماتِ شکر ہی پر مشتمل ہوگا۔چنانچہاللہ عَزَّ وَجَلَّارشاد فرماتاہے:
وَ قَالُوا الْحَمْدُ لِلہِ الَّذِیۡ صَدَقَنَا وَعْدَہٗ (پ۲۴، الزمر:۷۴)
ترجمۂ کنز الایمان: اور وہ کہیں گے سب خوبیاں اللہ کو جس نے اپنا وعدہ ہم سے سچا کیا۔
(10)...اور فرماتاہے: