Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :4)
24 - 882
کو جاننا، اس کی وحدانیت، صفات، کتابوں اور اس کے رسولوں پر ایمان لانا کیونکہ زنا اور دیگر گناہ اس ایمان کے منافی نہیں ہیں بلکہ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اس سے ایمان کی نفی کا اس طورپر ارادہ فرمایا کہ زنا اللہ عَزَّ  وَجَلَّ سے دوری اور ا س کی نا راضی کولازم کرتاہے۔  جیسےکوئی طبیب(Docter) کہے:”یہ زہر ہے اسے ہرگز نہ کھا نا۔“ پھر اگر وہ کھالے تو کہا جاتا ہے:”اس نےزہر کھالیا اور وہ مانتا نہیں۔“ اس کا مطلب یہ نہیں کہ وہ طبیب کے وُجود اور اس کے طبیب ہونے کو نہیں مانتا اور اس کی تصدیق نہیں کرتا بلکہ مراد یہ ہے کہ وہ طبیب کے اس قول کہ”یہ ہلاک کرنے والا زہر ہے“کی تصدیق نہیں کرتا اس لئے کہ جو آدمی زہر کی حقیقت جا نتا ہے وہ اسے ہرگز نہیں کھاتا۔ پس لازمی بات ہے کہ گناہ گار ناقِصُ الاِیمان ہے اور ایمان کا صرف ایک ہی دروازہ نہیں بلکہ اس کے 70سے کچھ زائدشعبے ہیں جن میں سب سے اعلیٰ اس بات کی گواہی دینا ہے کہ اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کے سوا کوئی معبود نہیں(حضرت محمد صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے رسول ہیں)اور سب سے ادنیٰ شعبہ راستہ  سے تکلیف دہ چیز کو ہٹا دینا ہے۔
ایمان اور انسان:
	ایمان کے 70 سے کچھ زائد دروازے ہیں۔ اس کی مثال کسی کہنے والے کا یہ قول ہے کہ انسان ایک ہی طرح کا وجود نہیں رکھتا بلکہ وہ 70 سے کچھ زائد طرح کا وجود رکھتا ہے جس میں سب سے اعلیٰ دل اور روح ہے اور سب سے ادنیٰ ظاہری جسم سے ایذا کو دور کرنا ہے۔مثلاً مونچھیں اور ناخُن تراشنا اور جسم کو میل کچیل سے صاف رکھنا تاکہ کھلے پھرنے والے اُن چوپایوں سے ممتاز رہے جواپنی مینگنیوں اور گوبر سے آلودہ رہتے ہیں اور اپنے لمبے ناخنوں اور طویل کُھروں کے سبب ناپسندیدہ صورت ہوتے ہیں۔ یہ مثال مناسب ہے۔ پس ایمان انسا ن کی طرح ہے۔
	اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کے ایک ہونے کی گواہی کا مفقود ہونا باطل ہونے کو مکمل طور پر لازم کردیتا ہے جیساکہ انسان میں روح کا مفقود ہونا اس کے معدوم ہونے کی دلیل ہے۔ جس کے پاس توحید ورسالت کی گواہی کے علاوہ کچھ نہ ہو (یعنی  گناہ ہوں مگر نیکیاں نہ ہوں)وہ گویا ایسا انسان ہے جس کے اعضاء کٹے ہو ئے ہو ں، آنکھیں پھوٹی ہوئی ہوں اور تمام ظاہری وباطنی اعضاء سے محروم ہو البتہ روح موجود ہو۔ جس طرح ایسا آدمی قَرِ یْبُ