ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
اصْبِرُوۡا وَصَابِرُوۡا وَرَابِطُوۡا ۟ (پ۴، اٰ ل عمرٰن:۲۰۰)
ترجمۂ کنز الایمان: صبر کرو اور صبر میں دشمنوں سے آگے رہو اور سرحد پر اسلامی ملک کی نگہبانی کرو۔
اس کی تفسیر میں ایک قول یہ ہے کہ ”اِصْبِرُوْا فِی اللہ، وَصَابِرُوْا بِاللہ وَرَابِطُوْا مَعَ اللہ یعنی طاعَتِ الٰہی کی بجا آوری کے دوران پیش آنے والی مشکلات پر صبر کرو، اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی مدد کو شامِلِ حال رکھو اور اپنا تعلق اس کے ساتھ مضبوط رکھو۔“
ایک قول یہ بھی بیان کیاگیا ہے کہ”اَلصَّبْرُ لِلّٰہ“عَنا(یعنی تکلیف ومشقت)ہے،”اَلصَّبْرُ بِاللہ“بَقا ہے،”اَلصَّبْرُ مَعَ اللہ“وفا ہے اور ”اَلصَّبْرُ عَنِ اللہ“ ظُلْم وجَفا ہے۔ اسی بات کو شاعر کچھ یوں بیان کرتا ہے:
وَالصَّبْرُ عَنْکَ مَذْمُوْمٌ عَوَاقِبُہٗ وَالصَّبْرُ فِیْ سَائِرِ الْاَشْیَاءِ مَحْمُوْدُ
اَلصَّبْرُ یَجْمُلُ فِی الْمَوَاطِنِ کُلِّہَا اِلَّا عَلَیْکَ فَاِنَّہٗ لَا یَجْمُلُ
ترجمہ:الٰہی تجھ سے صبر(یعنی دوری) کا انجام مَذمُوم وبُرا ہے اور دیگر تمام اشیاء سے صبرکرنا پسندیدہ ہے۔
اے پَروَرْدَگار! صبرہرصورت میں بہتر ہے مگر تجھ سے صبر(یعنی دور رہنا) بہتر نہیں۔
صبر کے عُلوم و اَسرار کی بحث یہاں ختم کرتے ہیں۔
دوسرا حصہ: شکر
شکر کے تین اَرکان ہیں:
پہلا رُکن اس کی فضیلت، حقیقت، اقسام اور احکام کے بارے میں ہے۔ دوسرا رُکن نعمت کی حقیقت اور اس کی تمام اقسام کے بارے میں ہے۔ تیسرا رُکْناس بارے میں کہ صبر و شکر میں سے کون زیادہ فضیلت والا ہے۔
پہلا رکن: شُکْر کی فَضِیْلت،حقیقت،اَقسام اوراَحْکام کا بیان
(اس میں چار فصلیں ہیں)
پہلی فصل: شُکْر کی فضیلت
جان لیجئے!اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے قرآن مجید میں جہاں اپنا ذکر فرمایا وہیں شکر کا بھی ذکر فرمایا اور یقیناً اللہ عَزَّ وَجَلَّ