Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :4)
238 - 882
	وسوسوں، خواہشات اور جاہ ومنزلت سے بچنے کے ہم نے جو عِلاج بیان کئے ہیں انہیں ”رِیا ضتِ نفس کے بیان“ میں ذکر کئے گئے مجاہدے کے قوانین کے ساتھ ملالو اور انہیں اچھی طرح ذہن نشین کرلو تاکہ ان کے ذریعے اُن تمام اَبْحاث میں صَبْر کے طریقے معلوم کرلو جو ہم پیچھے ذکر کر چکے ہیں کیونکہ ان میں سے ہر ایک کی تفصیل بہت زیادہ ہے۔
	جو انسان بَتَدْرِیْج اپنے صبر کو پختہ کرتا رہے تو ایک روز یہی صبر اِسے اُس مقام پر پہنچا دیتا ہے کہ اب اس پر صبر نہ کرنا شاق گزرتا ہے جیساکہ پہلے صبر کرنا شاق گزرتا تھا۔یعنی  مُعامَلات برعکس ہوجائیں گے جو چیزیں پہلے پسندیدہ تھیں اب ناپسند ہوجائیں گی اور جو اشیاء پہلے ناپسند تھیں اب ایسی محبوب ہوجائیں گی کہ ان سے رُکنا اب ممکن نہیں اور یہ بات تَجرِبہ یا ذوق سے ہی سمجھی جاسکتی ہے۔کسی بھی کام کو بتدریج کرنے کی عام سی مثال یہ ہے کہ بچے کو ابتداءً علم حاصل کرنے کے لئے جبراً بٹھایا جاتا ہے، کھیل کود سے باز رہ کر علم حاصل کرنا بچے پر دُشوار گزرتا ہے لیکن جب اس میں بصیرت پیدا ہوتی ہے تو اسے علم سے اُنسیت ہوجاتی ہے اور اب معاملہ برعکس ہوجاتا ہے کہ اب علم چھوڑ کر کھیل کود میں پڑ جانا اس پر شاق گزرتا ہے۔
	مروی ہے کہ کسی بزرگ نے حضرت سیِّدُنا شیخ ابوبکر شِبْلی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَ لِی سے سب سے زیادہ دُشوار صبر کے بارے میں سوال کیا تو آپ نے فرمایا: ”اَلصَّبْرُ فِی اللہ“(1)اُن بزرگ نے کہا: ”نہیں۔“ آپ نے فرمایا: ”اَلصَّبْرُ لِلّٰہ“ انہوں نے کہا: ”نہیں۔“ آپ نے پھر فرمایا: ”اَلصَّبْرُ مَعَ اللہ“(2) کہا: ”نہیں۔“ حضرت سیِّدُنا شیخ ابوبکر شبلی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَ لِی کہنے لگے: ”آپ ہی بتا دیجئے۔“ تو اُن بزرگ نے فرمایا: ”اَلصَّبْرُ عَنِ اللہ“(3) اس پر حضرت سیِّدُنا شیخ ابوبکر شبلی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَ لِی نے ایسی زوردار چیخ ماری قریب تھاکہ آپ کی روح پرواز کرجاتی۔
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
…” اَلصَّبْرُ فِی اللہ“سے مراد بُرے اخلاق سے چھٹکارا حاصل کرکے اچھے اخلاق اپنانااور بھلائی کے کاموں میں مشغول ہونا ہے۔(اتحاف السادة المتقین،۱۱/ ۸۲)
2…” اَلصَّبْرُ مَعَ اللہ“ سے مراد یہ ہے کہ انسان نیک اعمال کو اپنی طاقت و قوت کا کمال نہ سمجھے(بلکہ اللہ عَزَّ وَجَلَّکی طرف منسوب کرے)۔(اتحاف السادة المتقین،۱۱/ ۸۲)
3…” اَلصَّبْرُ عَنِ اللہ“سے مراد یہ ہے کہ اللہ عَزَّوَجَلَّ بندے کو اپنا قرب عطاکرنے کے بعد اسے دور کردے اور وہ اس پر صبر کرے(یعنی راہِ خدا سے انحراف نہ کرے)۔(اتحاف السادة المتقین،۱۱/ ۸۲)