٭…پہلا طریقہ: یہ ہے کہ انسان ایسی جگہوں سے دوری اختیار کرے تاکہ وہ اِن اَسباب کو دیکھ ہی نہ سکے کیونکہ اَسباب مہیا ہونے کی صورت میں صبر کرنا مشکل ہے جیساکہ شَہوت کواُبھارنے والی چیزوں کا مشاہدہ کرنے پر جب شہوت غالب آجائے تو وہاں سے دور ہونا مشکل ہے لیکن جو ایسا نہ کرے اس نے وُسعَتِ زمین کی ناشکری کی جو کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی ایک بڑی نعمت ہے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے: اَلَمْ تَکُنْ اَرْضُ اللہِ وَاسِعَۃً فَتُہَاجِرُوۡا فِیۡہَا ؕ (پ۵، النسآء:۹۷)
ترجمۂ کنز الایمان: کیا اللہ کی زمین کُشادہ نہ تھی کہ تم اس میں ہجرت کرتے۔
٭…دوسرا طریقہ: یہ ہے کہ انسان اپنے نفس کو خلافِ عادت اَفعال پر مجبور کرے تو عنقریب یہ مجبوری عاجزی میں بدل جائے گی۔ مثلاً کوئی بھی کام کرنے، رہائش اختیار کرنے، پہننے، کھانے اور اٹھنے بیٹھنے میں عام طور پر جو سہولیات پیْشِ نظر رکھتا تھا ان کا الٹ کرے حتّٰی کہ نفس انہی کا عادی ہوجائے، یہی اس کا علاج ہے۔
٭…تیسرا طریقہ: یہ ہے کہ ایک دم عاجزی کی انتہا کو نہ پہنچ جائے بلکہ نرمی کے ساتھ آہستہ آہستہ نفس کو خلافِ عادت اَفعال کا عادی بنائے کیونکہ طبیعت کو ایک دم تبدیل کرنا ممکن نہیں بلکہ کچھ وقت لگتا ہے، آہستہ آہستہ تبدیل کرتا جائے حتّٰی کہ بعض عادات بدل جائیں۔ نفس ان کا عادی ہوجائے تو پھر دوسری عادات چھوڑنے کی کوشش کرے حتّٰی کہ نفس ان کا بھی عادی ہوجائے۔ یہ عمل مسلسل کرتا رہے یہاں تک کہ جو عادات اس میں راسخ تھیں وہ جَڑ سے ختم ہوجائیں۔ سیِّدِعالَم، نُورِ مُجَسَّم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے درج ذیل دو فرامین اسی طرف اشارہ کرتے ہیں۔
نرمی کے متعلق دو فرامین مصطفٰے:
(1)...یہ دین پختہ ہے نرمی کے ذریعے اس میں پختگی حاصل کرو اور اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی عبادت سے خود کو مُتَـنَفِّر نہ کرو کہ ضرورت سے زیادہ کوشش سے تھکاوٹ کے سوا کچھ حاصل نہیں ہوتا۔(1)
(2)...اس دین سے زور آزمائی نہ کرو، جو دین سے زور آزمائی کرے گا یہ اسے پچھاڑ دے گا۔(2)
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
… الزھد لابن المبارک ، باب ذکر اللہ ، حدیث : ۱۱۷۸، ص ۴۱۵
2… بخاری،کتاب الایمان، باب الدین یسر،۱/ ۲۶، حدیث : ۳۹،بتغیرقلیل
المسند للامام احمد بن حنبل، حدیث بریدة اسلمی،۹/ ۱۲،حدیث : ۲۳۰۲۴