ہے۔ زُہد کا معنیٰ یہ ہے کہ بندہ اپنے غصے اور خواہشات پر قابو پالے اور یہ دونوں باعِثِ دینی اور اشارۂ ایمان کے تابع ہوجائیں۔ حقیقتاً انسان زُہد اختیار کرکے ہی بادشاہت کا مستحق ہوتا ہے کیونکہ اِس وقت وہ آزاد ہوتا ہے اور اگر اُس پر شہوت غالب آجائے تو وہ شرم گاہ، پیٹ اور تمام اعضاء کا غلام بن جاتا ہے۔ اِس صورتِ حال میں انسان چوپائیوں کی مثل بے بس ومجبور ہوجاتا ہے اور اس کے گلے میں پڑی شَہوت کی رسی سے شیطان جہاں چاہتا ہے اسے گھسیٹ کر لے جاتا ہے۔ انسان کتنے بڑے دھوکے کا شکار ہے کہ اس غلامی کو بادشاہت تصور کرتا ہے اور ایسا انسان دنیا اور آخرت دونوں جگہ رُسوا ہوتا ہے۔
زاہد اور دنیادار بادشاہ:
ایک بادشاہ نے کسی عبادت گزارسے کہا :تمہاری کوئی حاجت ہو تو بتاؤ؟ زاہد نے کہا: ”تم سے کیسے حاجت طلب کروں جبکہ میری بادشاہت تم سے وسیع ہے۔بادشاہ بولا:ایسا کیسے ممکن ہے؟زاہد کہنے لگا:تم جس کے غلام ہو وہ خود میرا غلام ہے۔بادشاہ نے کہا:کیسے؟زاہد نے کہا: تم خواہش، غصے، شرم گاہ اور پیٹ کے غلام ہو جبکہ میں ان تمام کا مالک ہوں اور یہ میرے غلام ہیں۔
دنیا میں درحقیقت زاہد ہی بادشاہ ہے اور یہی اُخروی بادشاہت کے حُصول کی طرف گامْزن ہے جبکہ شیطانی مَکْر وفَریب میں زندگی بسر کرنے والے دنیا وآخرت دونوں کے خسارے میں ہیں۔ جسے سیدھی راہ میں آنے والی مشکلات پر صبر کی توفیق عطا کی گئی وہ دنیا وآخرت میں کامیاب ہے۔جب تم نے بادشاہت وحاکمیت اور بےبسی وغلامی کی حقیقت اور ان کی خامیوں اور شیطان کے مکر وفریب کو جان لیا تو اب دنیاوی بادشاہت و جاہ ومنزلت سے بچنا، اس سے منہ پھیرلینا، اس کے نہ ملنے پر صبر کرنا اور اس دنیاوی مال ومتاع کو چھوڑ کر اُخْروِی بادشاہت کی امید کرنا تمہارے لئے آسان ہوجائے گا۔ جس بندے کو دنیاوی جاہ ومنزلت سے ایسی اُنسیت و محبت ہو کہ وہ اسی کے اسباب جمع کرنے میں خود کو لگائے رکھے تو اس شخص پر ان اُمور کا منکشف ہوجانا اور اس کا ان اُمور کو صرف جان لینا ہی کافی نہیں بلکہ ان پر عمل بھی ضروری ہے۔ عمل کے طریقے درج ذیل ہیں۔
دنیاوی مال و متاع سے بے رغبتی کے طریقے:
دنیاوی مال ومتاع سے بے رغبتی اختیار کرنے کے تین طریقے ہیں: