ہی نازل کی گئیں جن سے یہی مقصود ہے کہ انسان کو دنیاوی اور اُخروی دونوں بادشاہتیں حاصل ہوں۔
دنیا کی حقیقی اور ظاہری بادشاہت:
دنیا کی حقیقی بادشاہت یہ ہے کہ بندہ دنیا میں زُہد اختیار کرے اور جو ملے اس پر قناعت کرے اور اُخروی بادشاہت اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے قُرب میں ہمیشہ ہمیشہ رہنا، نہ ختم ہونے والی عزت اور آنکھوں کو ایسی ٹھنڈک و راحت نصیب ہونا ہے جو دنیا میں نہ کبھی نصیب ہوئی نہ کسی نے اسے جانا۔
شیطان انسان کو دنیا کی ظاہری بادشاہت کی طرف مائل کرتا ہے اور وہ جانتا ہے کہ اس کی وجہ سے انسان کو اُخروی بادشاہت حاصل نہ ہوسکے گی کیونکہ دنیا اور آخرت دو سوکَنیں ہیں اور وہ یہ بھی جانتا ہے کہ دنیا بھی اسے حاصل نہیں ہوگی اور اگر حاصل ہو بھی جائے تو اس سے حسد کیا جائے گا کیونکہ دنیا جھگڑوں، نفرتوں اور فکروں سے خالی نہیں اور جاہ ومَنْزِلَت کے تمام اسباب کا یہی حال ہے پھر جب دنیاوی جاہ ومنزلت کے اسباب مکمل ہوتے ہیں تو اس کی عمر وفا نہیں کرتی۔ چنانچہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ ارشاد فرماتا ہے: حَتّٰۤی اِذَاۤ اَخَذَتِ الۡاَرْضُ زُخْرُفَہَا وَازَّیَّنَتْ وَظَنَّ اَہۡلُہَاۤ اَنَّہُمْ قٰدِرُوۡنَ عَلَیۡہَاۤ ۙ اَتٰىہَاۤ اَمْرُنَا لَیۡلًا اَوْ نَہَارًا فَجَعَلْنٰہَا حَصِیۡدًا کَاَنۡ لَّمْ تَغْنَ بِالۡاَمْسِؕ(پ۱۱، یونس:۲۴)
ترجمۂ کنز الایمان: یہاں تک کہ جب زمین نے اپنا سنگار لے لیا اور خوب آراستہ ہوگئی اور اس کے مالک سمجھے کہ یہ ہمارے بس میں آگئی ہمارا حکم اس پر آیا رات میں یا دن میں تو ہم نے اسے کردیا کاٹی ہوئی گویا کل تھی ہی نہیں۔
دنیا کی مثال بیان کرتے ہوئے ارشاد فرماتاہے: وَاضْرِبْ لَہُمۡ مَّثَلَ الْحَیٰوۃِ الدُّنْیَا کَمَآ ٍٔ اَنۡزَلْنٰہُ مِنَ السَّمَآءِ فَاخْتَلَطَ بِہٖ نَبَاتُ الْاَرْضِ فَاَصْبَحَ ہَشِیۡمًا تَذْرُوۡہُ الرِّیٰحُ ؕ(پ۱۵، الکھف:۴۵)
ترجمۂ کنز الایمان: اور ان کے سامنے زندگانی دنیا کی کہاوت بیان کرو جیسے ایک پانی ہم نے آسمان سے اتارا تو اس کے سبب زمین کا سبزہ گھنا ہوکر نکلا کہ سوکھی گھاس ہوگیا جسے ہوائیں اڑائیں۔
زُہد کی حقیقت:
زُہد درحقیقت دنیا کی حقیقی بادشاہت ہے، اسی لئے شیطان اس سے حسد کرتا اور انسان کو اس سے روکتا